پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ملکی سموں کا غیر قانونی استعمال نہ کریں اور اپنی شناخت و مالی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنائیں، پی ٹی اے کے مطابق غیر ملکی سم نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اس کے استعمال سے صارفین کو مختلف مشکلات اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
پی ٹی اے نے کہا کہ غیر ملکی سموں کے ذریعے کی جانے والی کالز اور پیغامات آپ کی ذاتی اور مالی معلومات کو غیر محفوظ بنا سکتے ہیں،اس لیے صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف قریبی رجسٹرڈ فرنچائز یا آؤٹ لیٹس سے سم خریدیں اور یہ یقینی بنائیں کہ سم ان کے نام پر رجسٹرڈ ہو۔
واضح رہے کہ پی ٹی اے نے حال ہی میں 6 ماہ سے غیر فعال سمز کو بند کرنے کی ہدایت بھی جاری کی تھی، حکام کے مطابق وہ سمیں جن پر 180 دن تک کال، میسج یا انٹرنیٹ استعمال نہیں ہوا، انہیں بند کر دیا جائے گا اور بعد میں یہ نمبر کسی دوسرے صارف کو جاری کیے جا سکتے ہیں۔
پی ٹی اے نے صارفین کو خبردار کیا کہ سم کسی دوسرے صارف کو منتقل ہونے کے بعد اس پر کسی قانونی دعوے کا حق نہیں ہوگا، اس لیے ہر صارف کو اپنی سم کا ذمہ داری سے استعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ اقدام صارفین کے ڈیٹا اور مالی معلومات کے تحفظ اور قانونی پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاکہ پاکستان میں ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے میں شفافیت اور محفوظ استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔