پنجاب بسنت میلہ، قدیم حویلی کی چھت کی 1 کروڑ روپے میں بکنگ کی پیش کش

پنجاب بسنت میلہ، قدیم حویلی کی چھت کی 1 کروڑ روپے میں بکنگ کی پیش کش

لاہور کے تاریخی علاقے موچی گیٹ، اندرون لاہور میں بسنت میلے کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں، جہاں شہر کی فضا ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگوں، ڈھول کی تھاپ اور ثقافتی جوش و خروش سے بھرنے لگی ہے۔ اسی دوران ایک حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں 2 سو سالہ قدیم حویلی کی چھت کا کرایہ بسنت کے موقع پر ایک کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور بسنت فیسٹیول: پتنگوں کی خریداری عروج پر پہنچ گئی

قدیم حویلی کے مالکان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بسنت دیکھنے اور منانے کے لیے حویلی کی چھت کے عوض ایک کروڑ روپے کی خطیر پیشکش کی گئی، تاہم اہلِ خانہ نے اس آفر کو مسترد کر دیا۔ حویلی کے مالکان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مالی فائدے کے بجائے ثقافتی روایت اور خاندانی وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

حویلی کے مالک ندیم ڈار کا کہنا تھا کہ ‘یہ حویلی صرف اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں بلکہ ہماری تاریخ اور شناخت ہے’۔ انہوں نے بتایا کہ اس تاریخی حویلی پر ماضی میں روایتی بسنت منائی جاتی رہی ہے اور یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز بھی یہاں بسنت منا چکے ہیں۔

ندیم ڈار کے مطابق اہلِ خانہ کی خواہش ہے کہ وہ خود اپنی چھت پر بسنت منائیں اور اپنی نئی نسل کو یہ ثقافتی تہوار دکھائیں، تاکہ بچوں کو اپنی روایات اور لاہور کی قدیم تہذیب سے جوڑا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک کروڑ روپے کی پیشکش ہمارے لیے بڑی رقم ضرور ہے، مگر اپنی روایت اور خاندانی خوشیوں کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں’۔

مزید پڑھیں:بسنت کیلئے پتنگیں اور ڈور خریدنے کے خواہشمند افراد کے لئے بڑی خبر

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ موچی گیٹ اور اندرون لاہور ہمیشہ سے بسنت کا مرکز رہے ہیں، جہاں ہر گلی، چھت اور حویلی اس تہوار کے رنگ میں رنگی نظر آتی ہے۔ قدیم حویلی کے مالکان کے اس فیصلے کو شہری حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اور اسے ثقافت سے محبت اور روایت کی پاسداری کی بہترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

بسنت کی آمد کے ساتھ ہی اندرون شہر میں سیکیورٹی انتظامات، چھتوں کی تیاری اور پتنگ فروشوں کی رونق بھی بڑھ گئی ہے، جبکہ موچی گیٹ کی یہ تاریخی حویلی ایک بار پھر بسنت کی یادگار تقریبات کا مرکز بننے جا رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *