یقین دلاتا ہوں مظاہرین کو پھانسی نہیں دیں گے، ایرانی وزیر خارجہ

یقین دلاتا ہوں مظاہرین کو پھانسی نہیں دیں گے، ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملک میں داخلی صورتحال سے متعلق پھیلنے والی خبروں اور خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران میں مکمل امن و سکون قائم ہے اور لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران میں پھانسیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی ریاستی سطح پر ایسا کوئی ارادہ موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی مجموعی صورتحال حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہے اور ریاستی ادارے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے ماضی میں بھی دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کیا ہے اور جون میں پیش آنے والے واقعات کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کسی بھی غلطی کو دوبارہ دہرانے کا نتیجہ وہی ہوگا جو پہلے نکل چکا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی قوم کا عزم اور حوصلہ بمباری یا دھمکیوں سے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا نے ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کو اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض یورپی ممالک کی جانب سے مختلف نوعیت کے دباؤ اور خطرات کا سامنا ہے تاہم اس کے باوجود ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

 عباس عراقچی نے کہا کہ سفارت کاری ہی مسائل کے حل کا بہتر اور مؤثر راستہ ہے۔ اگرچہ ایران کا امریکا کے ساتھ ماضی کا تجربہ مثبت نہیں رہا، اس کے باوجود جنگ کے مقابلے میں بات چیت اور مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں اور خطے کے امن کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ مظاہروں میں شامل بعض عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، جس کا مقصد ایران میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ریاست ایسے تمام عناصر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

editor

Related Articles