امریکہ نے ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں ایک درجن سے زائد افراد اور ادارے شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پابندیاں ایران کی مالی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تجارت کو محدود کرنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔
غیر ملکی رپورٹس کے مطابق ایران اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔ ایرانی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں عوامی غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے سامنے آ رہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام نے عام شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ملک میں افراط زر چالیس فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث عوام کی قوت خرید میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے نے شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل بنا دیا ہے، جبکہ معاشی بدحالی کے خلاف احتجاجی تحریک میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق معاشی بحران کے خلاف متعدد شہروں میں ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی ردعمل کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر پچیس فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بھارت، ترکی اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔
امریکی اقدامات کے بعد عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ امریکا اور خطے کے بعض ممالک کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں وقتی کمی آ رہی ہے۔ نئی امریکی پابندیوں، ایران کی معاشی بدحالی اور عوامی احتجاج نے ملک کو اندرونی اور بیرونی دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے جس کے اثرات خطے اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔