دنیا کے امیر ترین 12 افراد کی فہرست سامنے آگئی، دولت جان کر آپ بھی ششدر رہ جائیں گے

دنیا کے امیر ترین 12 افراد کی فہرست سامنے آگئی، دولت جان کر آپ بھی ششدر رہ جائیں گے

عالمی فلاحی ادارے آکسفیم کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کے 12 امیر ترین افراد کے پاس 4 ارب سے زیادہ لوگوں کی مجموعی دولت کے برابر دولت موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ارب پتیوں کی مجموعی دولت 2025 میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے اور دنیا میں پہلی 12 ارب پتی افراد کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایلون مسک سب سے آگے

رپورٹ کے مطابق ارب پتی افراد میں سرِ فہرست ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک ہیں، جبکہ دیگر مشہور ارب پتیوں میں جیف بیزوس، برنارڈ آرنو اور وارن بفیٹ شامل ہیں، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ارب پتیوں کی مجموعی دولت میں 16.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 18.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا ارب پتی بزنس ٹائیکون اور خاندان کون؟ فہرست سامنے آگئی

عالمی معیشت اور پالیسیوں پر تنقید

آکسفیم کی رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں ضابطوں میں نرمی، کارپوریٹ ٹیکس سے متعلق عالمی معاہدوں کو کمزور کرنا، اور بڑے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا شامل ہے، ان اقدامات کے نتیجے میں دنیا بھر کے امیر ترین افراد کو زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔

معاشی ناہمواری کے خطرناک نتائج

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری خطرناک سیاسی نتائج کو جنم دے رہی ہے، کیونکہ دولت کے ذریعے سیاسی طاقت حاصل کی جا رہی ہے، امیر اور غریب کے درمیان یہ فرق، سیاسی آزادیوں کو کمزور اور عوامی حقوق کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

ماہرین کی رائے

آکسفیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرامیتابھ بیہر کا کہنا ہے کہ موجودہ اقتصادی نظام میں ارب پتیوں کی دولت میں مسلسل اضافہ، دنیا بھر میں سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کو بڑھا رہا ہے، انہوں نے کہا، “اگر عالمی سطح پر اس عدم توازن کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ سماجی اور سیاسی بحرانوں کی وجہ بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایلون مسک، امریکی صدر آمنے سامنے، ارب پتی ٹیک ٹائیکون نے ٹرمپ کو بڑی دھمکی دیدی

رپورٹ میں عالمی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کریں، کارپوریٹ شفافیت کو یقینی بنائیں، اور ایسے اقدامات کریں جو امیر اور غریب کے درمیان فرق کو کم کر سکیں، تاکہ معاشرتی استحکام اور عوامی اعتماد قائم رہ سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *