مفتاح اسماعیل کی وفاق اور صوبوں کے لیے اہم تجاویز

مفتاح اسماعیل کی وفاق اور صوبوں کے لیے اہم تجاویز

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیر کے روز حکومت پر زور دیا کہ وہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر نظرثانی کرے اور وفاقی اخراجات میں کمی لائے، خبردار کیا کہ پاکستان سازگار عالمی معاشی حالات کے باوجود اہم مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام ہو رہا ہے۔

پیر کی شب نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ موجودہ این ایف سی فریم ورک پر نظرثانی اور وفاقی اخراجات کی ازسرِنو ترجیحات طے کیے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 4,000 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مفتاح اسماعیل بھی معیشت ٹھیک کر نےآئے تھے، بس اپنی معیشت ٹھیک کر گئے: غذائی پروگرام کی پراڈکشن کیلئے 97 ارب اپنی انڈسٹری کو دیا: سینئر صحافی جبار چوپدری کے انکشاف

ٹیکس نظام میں عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ برآمد کنندگان تقریباً 60 فیصد ٹیکس کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ تقریباً 40 فیصد ادا کرتا ہے، جو کہ ان کے بقول غیر منصفانہ اور ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بجلی اور گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں تو پاکستانی برآمد کنندگان کیسے مسابقتی رہ سکتے ہیں۔

سابق وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ ہر رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے) کو 25 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، انہوں نے کہا ’مشکل فیصلے تنخواہ دار لوگوں پر ٹیکس لگا کر نہیں کیے جاتے‘، غیر ضروری فنڈز ایم این ایز اور ایم پی ایز کو نہ دینا زیادہ بامعنی قدم ہوگا۔

مفتاح اسماعیل نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ چکی ہیں، جو پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خام تیل اور خوردنی تیل کی قیمتیں بھی کم ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان برآمدات بڑھانے یا معاشی نمو کو بحال کرنے میں ناکام رہا ہے۔

برآمدات میں اضافے کی کمی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی حمایت کے باوجود پاکستان کی معیشت بمشکل چل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کے بجائے منتخب پیداواری شعبوں کو ٹیکس مراعات دینا ہی حقیقی اصلاحات کہلائیں گی۔

مزید پڑھیں:ایران میں مظاہرین کے خلاف پولیس کا بڑا منصوبہ

توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان آج بھی بجلی اسی طریقے سے فروخت کر رہا ہے جیسے 2012 میں کرتا تھا، جبکہ مجموعی بجلی کا استعمال بنگلہ دیش اور بھارت سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ 200 یونٹس تک سبسڈی دی جا رہی ہے، تاہم زیادہ ٹیرف صنعتی سرگرمیوں اور گھریلو استعمال میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جرات مندانہ ساختی اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان سازگار عالمی حالات کے باوجود اہم معاشی مواقع سے محروم رہ سکتا ہے۔

Related Articles