برطانیہ کے فوجی ہمیشہ امریکا کے ساتھ رہیں گے،ٹرمپ نے بیان بدل لیا

برطانیہ کے فوجی ہمیشہ امریکا کے ساتھ رہیں گے،ٹرمپ نے بیان بدل لیا

برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی سخت تنقید کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں برطانوی فوج کے کردار سے متعلق اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔ اپنے تازہ بیان میں امریکی صدر نے برطانوی فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں عظیم اور بہادر جنگجو قرار دیا اور کہا کہ برطانیہ کے فوجی ہمیشہ امریکا کے شانہ بشانہ کھڑے رہے  اور رہیں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرنے والے 457 برطانوی فوجی انتہائی دلیر تھے اور انہوں نے غیر معمولی قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجیوں نے شدید حالات میں لڑتے ہوئے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں اور وہ دنیا کے بہترین جنگجوؤں میں شامل ہیں۔

امریکی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعلقات کو ناقابلِ شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان ایسا مضبوط رشتہ قائم ہے جو کبھی کمزور نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق امریکا کے بعد اگر کسی فوج پر سب سے زیادہ اعتماد کیا جا سکتا ہے تو وہ برطانوی فوج ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا برطانوی فوجیوں سے محبت کرتا ہے اور یہ احترام ہمیشہ برقرار رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں :برطانیہ کا ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ معاہدے پر دستخط سے صاف انکار

واضح رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران برطانوی فوج فرنٹ لائن پر موجود نہیں تھی۔ اس بیان پر برطانیہ میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے صدر ٹرمپ کے بیان کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں تنقید کی تھی اور امریکی صدر سے باضابطہ معافی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

  صدر ٹرمپ کا نیا بیان امریکا اور برطانیہ کے درمیان سفارتی دباؤ اور اتحادی تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں برطانوی فوج کی قربانیاں تاریخی حیثیت رکھتی ہیں اور ان سے انکار ممکن نہیں۔ تازہ بیان کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *