وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا

وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا

وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق چار بی کو بحال رکھتے ہوئے کیس کے قابلِ سماعت ہونے پر اٹھائے گئے تمام اعتراضات مسترد کر دیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس اور 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر کارروائی جاری، وکلا کے دلائل، ججز کے سخت سوالات

عدالتی فیصلے کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق چار بی کو سن 2015 سے مؤثر اور برقرار رکھا جائے گا۔ عدالت نے واضح قرار دیا کہ پارلیمنٹ کو آئین کے تحت قانون سازی کے ذریعے لیوی ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور اس اختیار کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

قابلِ سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد

وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران دائر کیے گئے ان اعتراضات کو بھی مسترد کر دیا جن میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپر ٹیکس سے متعلق درخواستیں قابلِ سماعت نہیں ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ معاملہ عوامی مفاد اور ریاستی آمدن سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس پر عدالتی نظرثانی ضروری ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سپر ٹیکس کا نفاذ قومی معیشت کے استحکام، غیر معمولی مالی حالات اور ریاستی ضروریات کے پیش نظر کیا گیا تھا، جسے مکمل طور پر آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے نافذ کیا گیا۔

پارلیمنٹ کے اختیارات پر واضح مؤقف

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس نکتے پر بھی زور دیا کہ آئینِ پاکستان پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ملکی ضروریات کے تحت مختلف اقسام کے ٹیکس اور لیوی عائد کر سکے۔ عدالت کے مطابق ٹیکس پالیسی کا تعین کرنا منتخب قانون ساز اداروں کا کام ہے اور عدالت اس میں غیر ضروری مداخلت نہیں کر سکتی، جب تک کہ کوئی قانون واضح طور پر آئین سے متصادم نہ ہو۔

معاشی و قانونی حلقوں میں فیصلے کا خیر مقدم

قانونی اور معاشی ماہرین نے وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف ریاستی ریونیو کے نظام کو استحکام ملے گا بلکہ ٹیکس سے متعلق قانونی ابہام بھی ختم ہو گا۔

سپر ٹیکس کیس کا یہ فیصلہ آئندہ مالی اور ٹیکس پالیسیوں کے لیے ایک نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کو مالی وسائل کے حصول میں مزید قانونی تقویت حاصل ہو گئی ہے۔

Related Articles