لاہور میں بسنت کی تقریبات کے لیے جامع ٹرانسپورٹ پلان حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت شہریوں کو شہر بھر میں مفت سفری سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ تہوار کے دوران محفوظ، ہموار اور آسان آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ منصوبہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی، پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی اور نجی رائیڈر کمپنیوں نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بسنت کے دوران شہری میٹروبس سروس اور اورنج لائن میٹرو ٹرین پر مفت سفر کر سکیں گے۔
متوقع رش کو سنبھالنے کے لیے لاہور کے 24 روٹس پر مفت ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی۔ فیڈر روٹس پر 228 بسیں چلائی جائیں گی جبکہ 64 میٹروبس گاڑیاں اپنے مخصوص کوریڈورز پر مفت سروس فراہم کریں گی۔ گنجائش بڑھانے کے لیے سرکاری کالجز اور جامعات سے بھی بسیں طلب کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق سرکاری کالجز کی 54 اور جامعات کی 73 بسیں بسنت منانے والوں کے لیے مفت سفری سہولت فراہم کریں گی۔ بسنت کے دوران اورنج لائن میٹرو ٹرین کے ذریعے روزانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار مسافر سفر کر سکیں گے جبکہ میٹروبس سروس پر روزانہ تقریباً 87 ہزار افراد مفت سفر سے مستفید ہوں گے، جن میں گجومتہ سے شاہدرہ تک کا روٹ بھی شامل ہے۔
حکام نے روٹ وائز تفصیلات بھی جاری کیں، جن کے مطابق رانا ٹاؤن سے ریلوے اسٹیشن تک 13 بسیں چلائی جائیں گی۔ دیگر روٹس میں آر اے بازار سے چونگی تک چار، بھاٹی چوک سے شاد باغ تک پانچ، ڈپو چوک سے چونگی تک چار اور کینال سے جناح ٹرمینل تک 12 بسیں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ریلوے اسٹیشن سے گلشن راوی تک 8، وحدت روڈ سے قرطبہ چوک تک 11 اور آر اے بازار سے ناصر باغ تک 13 بسیں چلیں گی۔ پورا انا کہنہ سے آر اے بازار اور بھاٹی چوک سے آر اے بازار تک 19، 19 بسیں چلائی جائیں گی جبکہ جناح بس ٹرمینل سے بی آر بی تک 17 بسیں آپریٹ کی جائیں گی۔
حکام کے اندازے کے مطابق بسنت کے دوران روزانہ مجموعی طور پر 5 لاکھ 16 ہزار افراد کو بسوں کے ذریعے مفت سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ نجی کمپنیوں کی 5 ہزار رکشائیں خصوصی برانڈنگ کے ساتھ شہریوں کو مفت سفر کی سہولت فراہم کریں گی۔
ادھر بسنت کی تقریبات سے متعلق ایک بڑے فیصلے میں لاہور ضلعی انتظامیہ نے دیگر شہروں سے پتنگ اور ڈور منگوانے پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کر دی ہے۔ فیصلے کے بعد لاہور میں پتنگ اور ڈور کی مانگ اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تاہم حکام نے وضاحت کی ہے کہ عام شہریوں کو دیگر شہروں سے براہِ راست پتنگ اور ڈور منگوانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کمشنر کے مطابق صرف رجسٹرڈ پتنگ ساز، تاجر اور مینوفیکچررز ہی آرڈر دے سکیں گے جبکہ رجسٹرڈ دکانداروں کو تمام درآمد شدہ پتنگوں اور ڈور پر اپنے کیو آر کوڈ لگانا لازمی ہوگا۔