پاکستان سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کے قریب پہنچ گیا ہے، تاہم حکومت اس عمل میں قومی سلامتی، ڈیٹا کے تحفظ اور سخت ریگولیٹری نگرانی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے لیے خصوصی سائبر سیکیورٹی ضوابط تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے تحت عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کنندگان کے پاکستان میں آپریشنز کو منظم کیا جائے گا۔ یہ نیا فریم ورک لو ارتھ آربٹ (ایل ای او) سیٹلائٹ انٹرنیٹ سسٹمز سمیت تمام سیٹلائٹ پر مبنی سروسز پر لاگو ہوگا۔
ان ضوابط کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ، صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانا اور پاکستان میں کام کرنے والے سیٹلائٹ سروس فراہم کنندگان پر مؤثر ریگولیٹری کنٹرول کو یقینی بنانا ہے۔
اس عمل سے وابستہ حکام کے مطابق مجوزہ سائبر سیکیورٹی قوانین کے تحت مقامی ڈیٹا روٹنگ، صارفین کی معلومات کے محفوظ استعمال اور ذخیرہ کرنے اور قانون کے مطابق نگرانی کی سہولت فراہم کرنا لازمی ہو سکتا ہے۔
سیٹلائٹ آپریٹرز کو پاکستان کے سائبر کرائم اور ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی پابندی، مانیٹرنگ اور انسڈنٹ رسپانس سسٹمز کے قیام، قومی اداروں کے ساتھ سائبر خطرات سے متعلق معلومات کے تبادلے اور اس بات کو یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے کہ ان کا نیٹ ورک انفراسٹرکچر قانونی اور سیکیورٹی کنٹرولز کو نظرانداز نہ کرے۔
ستمبر 2025 میں پی ٹی اے نے فکسڈ سیٹلائٹ سروسز (ایف ایس ایس) کا ایک ڈرافٹ لائسنس تیار کیا تھا، جس کے تحت پاکستان میں سیٹلائٹ سروسز چلانے کے لیے 15 سالہ، غیر خصوصی اور منسوخ کی جا سکنے والی اجازت دی جائے گی۔
ڈرافٹ لائسنس میں 5 لاکھ ڈالر کی ابتدائی فیس، سالانہ لائسنس اور اسپیکٹرم فیس 0.5 فیصد فی کس، یونیورسل سروس فنڈ کے لیے 1.5 فیصد شراکت، اور 18 ماہ کے اندر مقامی گیٹ وے ارتھ اسٹیشن قائم کرنے کی شرط شامل ہے۔ لائسنس میں قومی سلامتی اور ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق سخت دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
عالمی سیٹلائٹ آپریٹرز، جن میں اسٹارلنک بھی شامل ہے، کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باوجود پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کا ابھی تک آغاز نہیں ہو سکا۔ صنعتی ذرائع کے مطابق اس کی وجہ ریگولیٹری اور ادارہ جاتی تاخیر ہے۔
ایک بڑی رکاوٹ پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (پی ایس اے آر بی) کی جانب سے ایل ای او سیٹلائٹ فراہم کنندگان کے لیے ضوابط کو حتمی شکل نہ دیا جانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیس ریگولیٹری فریم ورک کی عدم تکمیل اور سیکیورٹی کلیئرنسز کے التوا نے پاکستان میں سیٹلائٹ پر مبنی براڈ بینڈ سروسز کے اجرا کو نمایاں طور پر تاخیر کا شکار کر دیا ہے۔