بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے ملک بھر میں کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیمی وظائف کی رجسٹریشن کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے،نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد مستحق خاندانوں کے بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مالی سہولت فراہم کرنا، اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی لانا اور باصلاحیت طلبہ کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
بی آئی ایس پی حکام کے مطابق یہ پروگرام خاص طور پر ایسے بچوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جو معاشی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں،بی آئی ایس پی کے مطابق والدین یا قانونی سرپرست اپنے بچوں کی رجسٹریشن قریبی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں کروا سکتے ہیں۔
رجسٹریشن کے لیے بچے کا نادرا سے جاری کردہ بی فارم اور ایسا موبائل نمبر فراہم کرنا لازمی ہوگا جو پہلے سے بی آئی ایس پی کے ریکارڈ میں موجود ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ دستاویزات کی جانچ کے بعد متعلقہ افسر رجسٹریشن مکمل کرے گا اور ایک پرچی جاری کی جائے گی یہ پرچی بچے کے اسکول میں جمع کروانا ضروری ہوگا جہاں سے تعلیمی تصدیق کے بعد یہ پرچی دوبارہ بی آئی ایس پی دفتر میں جمع کروائی جائے گی تاکہ وظیفے کے عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔
تعلیمی وظائف کے لیے اہلیت کے حوالے سے بی آئی ایس پی نے واضح کیا ہے کہ وہی بچے اس پروگرام کے تحت اہل ہوں گے جن کی والدہ بینظیر کفالت پروگرام میں پہلے سے شامل ہوں۔
عمر کی حد کے مطابق پرائمری تعلیم کے لیے بچوں کی عمر 8 سے 18 سال جبکہ سیکنڈری تعلیم کے لیے 13 سے 22 سال مقرر کی گئی ہے،اس کے علاوہ طلبہ کے لیے اسکول میں کم از کم 70 فیصد حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ہے، حکام نے مزید کہا ہے کہ اگر طالب علم کسی وجہ سے اسکول تبدیل کرتا ہے تو اس کی بروقت اطلاع بی آئی ایس پی کو دینا ضروری ہوگا تاکہ ریکارڈ میں درستگی برقرار رکھی جا سکے۔
نجی ٹی وی کے مطابق تعلیمی وظائف کے تحت طلبہ کو 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک ماہانہ یا مقررہ مدت کے حساب سے رقم فراہم کی جائے گی۔
اس کے علاوہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے والی طالبات کے لیے خصوصی ترغیب کے طور پر اضافی 3 ہزار روپے بھی دیے جائیں گے۔
بی آئی ایس پی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف مجموعی طور پر تعلیم کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کو جاری رکھنے اور انہیں اعلیٰ تعلیم کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
بی آئی ایس پی حکام کے مطابق یہ پروگرام حکومت کے اس عزم کا حصہ ہے جس کے تحت معاشی طور پر کمزور طبقات کے بچوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ بہتر مستقبل کی جانب قدم بڑھا سکیں۔