بھارت میں سوشل میڈیا کی اسکرینوں سے جنم لینے والی نوجوانوں کی ایک غیر روایتی اور منفرد ڈیجیٹل تحریک اب نئی دہلی کی سڑکوں پر عملی احتجاج کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے مودی حکومت کو شدید ترین سیاسی و انتظامی دباؤ میں لے لیا ہے۔
برطانوی جریدے ’دی گارڈین‘ نے اس نئی ابھرتی ہوئی ’جین زی‘ (موجودہ نسل کے نوجوان) تحریک کی غیر معمولی طاقت کا باقاعدہ اعتراف کیا ہے۔
عالمی جریدے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی یہ تحریک اس وقت بھارت کی سیاست کے روایتی دھارے کو مکمل طور پر ہلا دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور ایک آن لائن میم سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب مودی سرکار کے لیے ایک غیر متوقع اور سنگین ترین چیلنج بن چکا ہے۔
’دی گارڈین‘ کے مطابق یہ تحریک دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں ایسے بھارتی نوجوانوں کی طاقتور آواز بن چکی ہے جو ملک کے موجودہ معاشی و سیاسی نظام سے شدید عدم اطمینان، معاشی ناہمواری اور مایوسی کا شکار ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مودی سرکار کو للکارا اور کہا کہ ’بھارت کے نوجوان اب کسی خوف میں نہیں جئیں گے، بلکہ وہ اپنے چھینے گئے حقوق کے لیے آخری حد تک لڑیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی نوجوانوں کو امید ہے کہ نیپال اور سری لنکا میں حالیہ برسوں میں آنے والی عوامی تبدیلیوں کی طرح اب بھارت میں بھی نوجوانوں کی ایک بڑی اور فیصلہ کن عوامی تحریک جنم لے رہی ہے جو اقتدار کے ایوانوں کو بدل کر رکھ دے گی۔
سیاسی اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی نوجوان اب مودی حکومت کی روایتی سیاست، مذہبی کارڈ (ہندوتوا) اور انتہا پسندانہ نظریات کو یکسر مسترد کر چکا ہے۔
یہ منفرد ‘جین زی’ تحریک دراصل ریکارڈ بے روزگاری، مستقبل کی مایوسی اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ریاستی جبر کے خلاف نوجوان نسل کے اندر جمع ہونے والے شدید غم و غصے کا عملی اور سڑکوں پر نظر آنے والا اظہار ہے، جس نے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
بھارت کی کل آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں (جین زی اور ملینئلز) پر مشتمل ہے، لیکن گزشتہ چند سالوں کے دوران ملک میں گریجویٹ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) روایتی طور پر ہندو قوم پرستی اور مذہبی کارڈ کے ذریعے انتخابات جیتتی آئی ہے اور حزبِ اختلاف (اپوزیشن) کی روایتی جماعتیں بھی نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے میں ناکام رہی ہیں۔
ایسے میں سوشل میڈیا پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے طنزیہ میمز اور پوسٹس کا آغاز ہوا، جس کا مقصد خود کو ‘کاکروچ’ کی طرح سخت جان ظاہر کرنا تھا جو ہر قسم کے سخت حالات اور ریاستی جبر کے باوجود ختم نہیں ہوتے۔
یہ آن لائن نیٹ ورک اس وقت ایک سیاسی تحریک میں تبدیل ہوا جب نوجوانوں نے محسوس کیا کہ ان کے بنیادی معاشی مسائل پر پارلیمنٹ میں کوئی بات نہیں ہو رہی۔
سری لنکا میں معاشی بحران کے بعد عوامی سیلاب کی طرح صدارتی محل پر قبضے اور نیپال کے سیاسی انقلابات نے ان بھارتی نوجوانوں کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ سوشل میڈیا کے الگورتھم سے باہر نکل کر دہلی کے مضافات اور دل تک پہنچیں، جس نے مودی سرکار کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا کا عملی سیاست میں تبدیل ہونا
یہ تحریک ثابت کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کے ‘لائیکس’ اور ‘شیئرز’ جب اسٹریٹ پاور (سڑکوں کی طاقت) میں تبدیل ہوتے ہیں تو وہ کسی بھی جابر حکومت کے لیے ڈراؤنا خواب بن جاتے ہیں۔ مودی حکومت جو انٹرنیٹ سنسرشپ اور آئی ٹی سیل کے ذریعے بیانیے کو کنٹرول کرتی تھی، وہ اس غیر مرکزی نوجوان تحریک کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے۔
مذہبی کارڈ کا ناکام ہونا
بی جے پی کا سب سے بڑا ہتھیار ووٹرز کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا رہا ہے۔ تاہم، کاکروچ جنتا پارٹی کا ایجنڈا خالصتاً معاشی، روزگار کی فراہمی اور آزادیِ اظہارِ رائے پر مبنی ہے۔ جب نوجوان ہندو، مسلم اور سکھ کے تفریق سے بالاتر ہو کر ‘روزگار’ کے نام پر اکٹھے ہوں گے، تو مودی کا روایتی ووٹ بینک بکھرنے کا شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
عالمی برادری اور ‘دی گارڈین’ کا رخ
برطانوی جریدے دی گارڈین کی جانب سے اس تحریک کو بھارت کو ہلانے والی قوت تسلیم کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بین الاقوامی میڈیا اب بھارت کے نام نہاد ’مستحکم جمہوری‘ امیج کے پیچھے چھپی آمریت اور نوجوانوں کی بدحالی کو دنیا کے سامنے لا رہا ہے، جس سے مودی کی عالمی ساکھ کو دھچکا پہنچے گا۔