پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر قرضے میعاد سے پہلے واپس کر کے ایک اہم اور غیر معمولی معاشی سنگِ میل عبور کر لیا ہے، وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ملکی معیشت میں استحکام، مالی نظم و ضبط اور ذمہ دارانہ قرضہ پالیسی کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 2024 سے جنوری 2026 تک صرف 14 ماہ کے قلیل عرصے میں حکومتِ پاکستان نے مجموعی طور پر 3 ہزار 654 ارب روپے کا اندرونی قرض میعاد سے پہلے واپس کیا، جو ملکی تاریخ میں اس نوعیت کی پہلی اور سب سے بڑی قبل از وقت قرض ادائیگی ہے، ماضی میں حکومتیں زیادہ تر قرضوں کی ری شیڈولنگ یا مدت میں توسیع پر انحصار کرتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:یورپین پارلیمنٹ کا پاکستانی شہریوں کے لیے بڑا اعلان
حکام کے مطابق اس قرض کی قبل از وقت ادائیگی سے حکومت کو سود کی مد میں اربوں روپے کی بچت ہوئی ہے، جس سے آئندہ برسوں میں بجٹ پر دباؤ کم ہونے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے اضافی وسائل میسر آنے کی توقع ہے، وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملکی قرضوں کے مجموعی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے اور قلیل مدتی قرضوں پر انحصار نمایاں حد تک کم ہوا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اندرونی قرض کی قبل از وقت واپسی ایک ایسا قدم ہے جو مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بڑھانے، حکومتی ساکھ کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاروں کے لیے مثبت پیغام دینے کا باعث بنتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے بینکنگ سسٹم پر دباؤ کم ہوگا اور نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق یہ کامیابی بہتر مالی نظم و نسق، ٹیکس وصولیوں میں اضافے، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور مؤثر کیش مینجمنٹ پالیسی کا نتیجہ ہے، حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنی آمدن اور اخراجات میں توازن پیدا کر کے قرضوں پر انحصار کم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان کی معدنی برآمدات میں شاندار اضافہ، معاشی خود کفالت کی جانب اہم پیش رفت
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اسی رفتار سے مالی اصلاحات جاری رکھتی ہے تو آئندہ برسوں میں مجموعی قرضوں کے حجم میں مزید کمی اور مالی خسارے پر بہتر کنٹرول ممکن ہو سکتا ہے، ان کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں بھی پاکستان کے مؤقف کو مضبوط بنائے گی۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آئندہ مرحلے میں قرضوں کی لاگت کم کرنے، طویل مدتی فنانسنگ کی جانب منتقلی اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے پر توجہ دے گی، معاشی حلقوں نے اس اقدام کو پاکستان کی مالی تاریخ میں ایک مثبت اور امید افزا موڑ قرار دیا ہے، جس سے مستقبل میں معاشی استحکام کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔

