تربوز کو انجیکشن لگا ہے یا نہیں،سوشل میڈیا پر افواہوں کی حقیقت سامنے آگئی

تربوز کو انجیکشن لگا ہے یا نہیں،سوشل میڈیا پر افواہوں کی حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں تربوز سے متعلق مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں جن میں یہ کہا جارہا ہے کہ تربوز کو انجیکشن لگا کر مصنوعی طور پر سرخ اور میٹھا بنایا جاتا ہے، ان ویڈیوز اور پوسٹس کے بعد عوام میں تشویش پائی جارہی ہے اور کئی افراد نے تربوز خریدنے اور کھانے سے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے، تاہم غذائی ماہرین نے ان دعوؤں کو زیادہ تر افواہ اور غیر سائنسی قرار دیا ہے۔

نجی ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غذائی ماہرین کے مطابق تربوز ایک قدرتی، صحت بخش اور پانی سے بھرپور پھل ہے جو خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں جسم کو ٹھنڈک پہنچانے اور پانی کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن کے خطرناک موسم میں اس کا استعمال نہایت فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔

ماہر غذائیت عائشہ ناصر کے مطابق یہ تاثر کہ تربوز میں انجیکشن لگا کر رنگ یا مٹھاس بڑھائی جاتی ہے، عام طور پر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا ان کا کہنا ہے کہ تربوز کا چھلکا سخت ہوتا ہے اور اس میں انجیکشن لگانا عملی طور پر مشکل ہے، جبکہ اگر کسی پھل میں غیر معمولی سوراخ ہو تو اس کے واضح نشانات نظر آ سکتے ہیں، اس لیے ہر سرخ رنگ کو کیمیکل سے جوڑنا درست نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :بریانی کے بعد تربوز کھانے سے چار افراد کیساتھ کیا ہوا ؟ اصل وجہ سامنے آگئی

انہوں نے مزید بتایا کہ تربوز میں قدرتی طور پر موجود ایک مادہ لائیکوپین اسے سرخ رنگ دیتا ہے، بعض اوقات یہ رنگ ہلکے انداز میں ٹشو یا کپڑے پر نشان چھوڑ سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس میں کوئی کیمیکل یا مصنوعی مادہ شامل کیا گیا ہے۔

ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بازار سے کٹا ہوا تربوز خریدنے سے گریز کیا جائے کیونکہ کٹے ہوئے پھل پر جراثیم تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔

اگر چھری یا کٹنگ کا عمل غیر صاف ستھرا ہو تو بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ پورا تربوز خریدا جائے اور گھر میں صاف پانی سے دھو کر کاٹا جائے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ تربوز کو مختلف مشروبات میں بھی استعمال کرتے ہیں، تاہم کمزور معدہ رکھنے والے افراد، بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کو ایسے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، ذیابیطس اور معدے کے مریضوں کو بھی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر زیادہ مقدار میں استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

editor

Related Articles