پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ایک اور سپاٹ کارگو موصول ہو گیا ہے جس سے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور گیس کی فراہمی کو مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔ ایل این جی بردار جہاز بی ڈبلیو ہیلیوس اتوار کی صبح پورٹ قاسم پہنچا اور پی جی پی ایل ٹرمینل پر کامیابی سے لنگر انداز ہو گیا۔
یہ جہاز تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار کیوبک میٹر ایل این جی لے کر پاکستان پہنچا ہے۔ یہ کارگو پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے بین الاقوامی سطح پر مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے حاصل کیا۔ سپلائی کا معاہدہ بی پی سنگاپور کے نام رہا جس نے 19.1337 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر ایل این جی فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
ذرائع کے مطابق جہاز صبح تقریباً آٹھ بجے پورٹ قاسم پہنچا جہاں ضروری تکنیکی اور حفاظتی کارروائیوں کے بعد ایل این جی کو ٹرمینل کے ذخیرہ کرنے والے نظام میں منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ بعد ازاں اس گیس کو قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا تاکہ ملک بھر میں صارفین اور صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور صنعتی سرگرمیوں کے پیش نظر ایل این جی کی بروقت درآمد انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اضافی گیس کی دستیابی سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو ایندھن کی فراہمی بہتر ہوگی جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے طویل المدتی معاہدوں کے ساتھ ساتھ سپاٹ مارکیٹ سے بھی ایل این جی کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔ حالیہ کارگو بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد گیس کی قلت سے بچاؤ اور توانائی کے شعبے کو مستحکم بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود بروقت خریداری اور مؤثر منصوبہ بندی ملک کی توانائی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تازہ کارگو کی آمد سے آنے والے دنوں میں گیس کی فراہمی کے نظام کو مزید سہارا ملنے کی توقع ہے۔