ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا ایک اہم سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ وہ 4 فروری تک پاکستان میں قیام کریں گے، جس دوران ان کی ملکی قیادت اور اعلیٰ سرکاری حکام کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتیں طے ہیں۔ اس دورے کو پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان جاری تعاون کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجے بنگا اپنے قیام کے دوران پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال، جاری اور آئندہ معاشی اصلاحات اور ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی تباد لہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ بھارت کے ساتھ جاری آبی تنازع بھی ملاقاتوں کے ایجنڈے میں شامل ہونے کا امکان ہے جسے پاکستان کے لیے ایک حساس اور اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ورلڈ بینک کے صدر کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے، جس میں مجموعی معاشی صورتحال، عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون اور مستقبل کی ترجیحات پر گفتگو کی جائے گی۔
اسی طرح ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے علاوہ توانائی اور اقتصادی امور سے وابستہ اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ملاقاتیں متوقع ہیں ان ملاقاتوں میں مختلف شعبوں میں اصلاحات، توانائی کے مسائل، مالی نظم و ضبط اور ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت زیرِ بحث آئے گی۔
پاکستانی حکام ورلڈ بینک کے صدر کو ملک میں جاری معاشی اصلاحات، پالیسی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات سے آگاہ کریں گے۔ اس موقع پر حکومت کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیے جانے کا امکان ہے کہ معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے عالمی بینک کا تعاون پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان طے شدہ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر عملدرآمد کے حوالے سے پیشرفت متوقع ہے۔ اس فریم ورک کے تحت عالمی بینک 2035 تک پاکستان کو مجموعی طور پر 20 ارب ڈالر فراہم کرے گا، ۔