سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں، پانی کو جنگی ہتھیار بنانا قبول نہیں، شہباز شریف

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں، پانی کو جنگی ہتھیار بنانا قبول نہیں، شہباز شریف

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ پاکستان کے قومی مفاد، ماحولیاتی استحکام اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے پیر کو واضح کیا کہ پاکستان عالمی قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ 1960 کے منصفانہ اور مؤثر نفاذ پر یقین رکھتا ہے اور پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ہوئے بھرپور انداز میں مسترد کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا کیساتھ ٹی20 سیریز، پاکستانی ٹیم نے 7 نئے قومی و عالمی ریکارڈ قائم کردیے

آبی ذخائر کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کو آبی ذخائر کے دیرپا تحفظ، مؤثر انتظام اور پائیدار استعمال کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر کا تحفظ محض موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے ایک ماحولیاتی فریضہ نہیں بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی فلاح و بہبود، معاشی استحکام اور غذائی تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس سال آبی ذخائر کا عالمی دن ’آبی ذخائر اور روایتی علم: ثقافتی ورثے کی پاسداری‘ کے نہایت موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ پانی کے وسائل محض قدرتی نعمت نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور تاریخی ورثے کا بھی اہم حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 1971ء کے آبی ذخائر کے عالمی معاہدے کا رکن ہے، جس کے تحت نوع انسانی کے فائدے کے لیے آبی ذخائر کے دانشمندانہ استعمال اور ان کے قدرتی وسائل کے تحفظ پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ عالمی دن اسی معاہدے کی یاد دہانی کے طور پر ہر سال منایا جاتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قابلِ بھروسا اور محفوظ آبی ذخائر کسی بھی ملک کو شدید ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ یہ خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی تغیر جیسے خطرات سے بچاؤ میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:بھارت کے سابق جنرل کا پاکستان کیخلاف آبی دہشتگردی کے منصوبے کا انکشاف

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے آبی ذخائر، جن میں جھیلیں اور گلیشیئرز، اندرونی آبی ذخائر، دریا، ساحلی پٹی اور مینگروو نظام شامل ہیں، نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا ذریعہ ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن، پانی کے مؤثر نظم و نسق اور قدرتی آفات کے اثرات کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے خبردار کیا کہ آبی ذخائر میں کمی لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قومی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، زرعی پیداوار میں کمی اور سیلاب و خشک سالی جیسی سنگین صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آئیے آج کے دن اس عزم کی تجدید کریں کہ ہم نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی آبی ذخائر کو اپنا بیش قیمت قومی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی اثاثہ سمجھتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے بھرپور اور مؤثر کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر حکومتِ پاکستان ممالک کے درمیان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *