ایئرپورٹس پر مسافروں کو جہازوں سے آف لوڈ کرنے کے معاملات پر بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد حکومت نے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے عمل کو باقاعدہ قانونی تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نئے قواعد و ضوابط تیار کر کے منظوری کے لیے وزارت داخلہ کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق مسافروں کی آف لوڈنگ کے عمل کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے تفصیلی قواعد تیار کیے گئے ہیں، جن کا اس وقت وزارت داخلہ میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان قواعد کی منظوری کے بعد ہائی رسک مسافروں کو قانونی طور پر آف لوڈ کرنا ممکن ہو سکے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے مسافروں کو آف لوڈ کیا جائے گا جن کے طرزِ عمل، سفری دستاویزات یا دیگر شواہد سے غیر قانونی سرگرمیوں یا مشکوک ارادوں کا خدشہ ظاہر ہو۔ نئے قواعد کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح قانونی بنیاد فراہم کرنا ہے تاکہ مسافروں کے حقوق اور ریاستی سکیورٹی کے تقاضوں میں توازن قائم رکھا جا سکے۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر کے ایئرپورٹس پر ایک لاکھ 47 ہزار 842 مسافروں کو مختلف وجوہات کی بنا پر آف لوڈ کیا گیا۔ سال 2023 میں 35 ہزار 270 جبکہ 2024 میں 39 ہزار 214 مسافروں کو پروازوں سے اتارا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں مجموعی طور پر 73 ہزار 358 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا، جن میں سے 45 ہزار 356 مسافروں کو تکنیکی بنیادوں پر پرواز سے روکا گیا۔ تکنیکی وجوہات میں پرواز کی منسوخی یا خرابی، خراب موسمی حالات اور بعض صورتوں میں مسافروں کا خود سفر نہ کرنے کا فیصلہ شامل ہے۔
حکام کے مطابق نئے قواعد کی منظوری کے بعد آف لوڈنگ کے عمل میں شفافیت آئے گی اور غیر ضروری تنازعات میں بھی کمی متوقع ہے۔