‘خیبر پختونخوا (کے پی) کی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرِ قیادت صوبائی حکومت نے’ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور‘ قوانین سے متعلق بڑا یو ٹرن لیتے ہوئے نومبر 2025 کو جاری اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، خیبر پختونخوا حکومت ماضی میں ان قوانین کی بھرپور انداز میں دفاع کرتی رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صدارت میں ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں دائر وہ اپیل واپس لے لی جائے گی جس کے ذریعے 2019 کے ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کا دفاع کیا جا رہا تھا۔
یہ فیصلہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی ایک متفقہ قرارداد کے بعد سامنے آیا، جس میں اس قانون کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔ مذکورہ قانون کو 2019 میں پی ٹی آئی حکومت نے پورے صوبے تک توسیع دی تھی تاکہ فوج کے زیرِ انتظام انٹرنمنٹ سینٹرز کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
یہ آرڈیننس طویل عرصے سے قانونی اور سیاسی تنازع کا شکار رہا ہے۔ اس سے قبل پشاور ہائیکورٹ نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا، تاہم صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ سے حکمِ امتناع حاصل کر لیا تھا، جس کے باعث یہ قانون نافذ العمل رہا۔
حالیہ فیصلے کے باوجود رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حراستی قانون ایک عبوری مدت کے لیے بدستور نافذ رہ سکتا ہے، جب تک قانونی اور انتظامی معاملات کا جائزہ مکمل نہیں ہو جاتا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آرٹیکل 245 کے تحت صوبائی حکومت یا اسمبلی کی منظوری کے بغیر آپریشنز مسلط کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی حکومت نے امن و امان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے سے متعلق یہ منصوبہ بندی کی ہے کہ فوج پر انحصار کے بجائے مقامی پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسی تبدیلی خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے سیکیورٹی امور، بالخصوص وادیٔ تیراہ جیسے حساس علاقوں میں کارروائیوں پر بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاس ہے۔
یہ پیش رفت 2019 کے اس مؤقف سے ایک نمایاں انحراف ہے، جب وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں، جو اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت میں تھیں، ان متنازع قوانین کے نفاذ کے لیے باہمی تعاون سے کام کر رہی تھیں۔