ایرانی حملوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا ، اسرائیل جوابی کارروائی سے گریز کرے ، ٹرمپ

ایرانی حملوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا ، اسرائیل جوابی کارروائی سے گریز کرے ، ٹرمپ

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مزید بڑھانے کے بجائے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل ایران کے حالیہ حملوں کے جواب میں مزید فوجی کارروائی سے گریز کرے گا تاکہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایرانی حملوں سے کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میزائل حملے کے بعد اب مزید اقدامات کے بجائے مذاکرات کی جانب لوٹنا بہتر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو بات چیت کی میز پر واپس آ کر معاہدے کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر نے اسرائیل کی جانب سے بیروت پر ہونے والے حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس پیش رفت سے خوش نہیں ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے رابطہ کریں گے اور انہیں مزید جوابی کارروائی سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک حملے کے جواب میں دوسرا حملہ ہوتا رہا تو خطہ ایک طویل اور خطرناک کشیدگی کا شکار رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ میزائل حملہ محض ایک وارننگ تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر اسرائیل نے لبنان یا دیگر محاذوں پر کارروائیاں جاری رکھیں تو ایران کا ردعمل زیادہ وسیع اور شدید ہو سکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران سے ڈیل نہ بھی ہوئی تو اپنے اہداف حاصل کر لیں گے، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب نے الزام عائد کیا کہ جنگ بندی سے متعلق طے شدہ شرائط پر مکمل عمل نہیں کیا گیا، جبکہ اسرائیل اور امریکا اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ لبنان پر مزید حملوں کی صورت میں خطے میں موجود اسرائیلی اور امریکی مفادات بھی خطرے میں آ سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر غیر یقینی اور تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

editor

Related Articles