امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ بھی ہو تو افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے دیگر راستے موجود ہیں تاہم اگر تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ایران کے سپریم لیڈر سے ملاقات پر بھی غور کر سکتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور واشنگٹن کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ ترجیح ہے لیکن امریکہ کے پاس اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی عسکری قیادت، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران مستقبل میں امریکی فوج یا امریکی مفادات کو نشانہ بناتا ہے تو اسے جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز سمجھا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی متعدد اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں بھی ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک جانب ایران کے ساتھ سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب دباؤ کی پالیسی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی سمت خطے کی مجموعی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔