رمضان میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کیوں؟، فائدہ سامنے آگیا

رمضان میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کیوں؟، فائدہ سامنے آگیا

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی شمالی افریقی ملک مراکش میں ایک منفرد روایت دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے، جب حکومت سرکاری سطح پر پورے ملک کی گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دیتی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف انتظامی اقدام سمجھا جاتا ہے بلکہ عوام اسے روحانی، جسمانی اور نفسیاتی سکون سے بھی جوڑتے ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مراکشی حکومت رمضان شروع ہوتے ہی ملک کو عارضی طور پر گرینچ ٹائم پر واپس لے آتی ہے۔ رمضان کے اختتام پر گھڑیاں دوبارہ ایک گھنٹہ آگے کر دی جاتی ہیں اور ملک معمول کے اوقات کار پر لوٹ آتا ہے۔ حکومتی مؤقف یہ ہوتا ہے کہ اس تبدیلی سے روزہ داروں کو سحری اور افطار کے اوقات میں آسانی ملتی ہے اور دن کے اوقات نسبتاً متوازن محسوس ہوتے ہیں۔

عوامی ردعمل اور ‘کم شدہ گھڑی’ کا تصور

مراکش میں اس اقدام کو عوامی سطح پر ’کم شدہ گھڑی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ بہت سے شہری اسے سال بھر گرمیوں کے اوقات کار کی وجہ سے متاثر ہونے والے حیاتیاتی توازن کی بحالی کا موقع قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ایک گھنٹے کی واپسی سے نیند کا دورانیہ بہتر محسوس ہوتا ہے اور صبح کے اوقات میں قدرتی روشنی کے ساتھ دن کا آغاز ممکن ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیردفاع خواجہ آصف سرکاری دورے پر مراکش پہنچ گئے، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کا عزم

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک اور ایکس پر ہر سال اس فیصلے کے بعد دلچسپ بحث چھڑ جاتی ہے۔ کئی صارفین اس لمحے کو ’سماجی عرس‘ قرار دیتے ہیں، جہاں پورا معاشرہ بیک وقت سکون اور اطمینان کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ افراد مزاحیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ ’ایک گھنٹہ واپس آنے سے زندگی بھی واپس آ گئی‘۔

قدرتی روشنی اور معمولات زندگی پر اثر

رپورٹس کے مطابق مراکشی شہری اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ کام یا اسکول قدرتی روشنی میں جا سکتے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے صبح کے اوقات نسبتاً آسان ہو جاتے ہیں جبکہ ملازمین کو بھی دن کا آغاز کم تھکن کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

طبیب اور صحت عامہ کی پالیسیوں کے محقق ڈاکٹر طیب حمضی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وقت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی، چاہے گرمیوں کے اوقات کا نفاذ ہو یا سردیوں کے اوقات پر واپسی، انسانی جسم پر واضح اثرات مرتب کرتی ہے۔ ان کے مطابق نیند، روزمرہ توانائی اور مزاج براہِ راست حیاتیاتی گھڑی سے جڑے ہوتے ہیں۔

رمضان میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کرنے کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ اس مہینے میں عارضی طور پر سردیوں کے وقت پر واپسی کے باعث کئی افراد کو محسوس ہوتا ہے کہ جسم اپنا قدرتی ردھم دوبارہ حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے مثبت اثرات ذہنی صحت اور جذباتی توازن پر بھی پڑتے ہیں، اور کئی ماہ تک گرمیوں کے اوقات سے مطابقت کے بعد ایک طرح کا داخلی سکون محسوس ہوتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ وقتی تبدیلی سے کچھ افراد کو ابتدائی الجھن یا معمولات میں ردوبدل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم رمضان کے مخصوص طرزِ زندگی کے باعث یہ تبدیلی نسبتاً آسانی سے قبول کر لی جاتی ہے۔

حکومتی حکمت عملی اور سماجی پہلو

مراکشی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد مذہبی، سماجی اور عملی تقاضوں میں توازن پیدا کرنا ہے۔ سرکاری ادارے، تعلیمی مراکز اور نجی شعبہ بھی رمضان کے دوران اپنے اوقات کار میں لچک پیدا کرتے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

یوں مراکش میں گھڑی کا ایک گھنٹہ پیچھے جانا محض وقت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سماجی اور روحانی علامت بن چکا ہے، جو ہر سال رمضان کے استقبال کا منفرد انداز بن جاتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *