عمران خان کی صحت اور دھرنے، اپوزیشن نے حکومت کے سامنے 5 مطالبات رکھ دیے

عمران خان کی صحت اور دھرنے، اپوزیشن نے حکومت کے سامنے 5 مطالبات رکھ دیے

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے، اپوزیشن اتحاد نے حکومت کے سامنے 5 اہم مطالبات پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر سنجیدہ پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس اور خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر جاری دھرنا چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے، جہاں مختلف جماعتوں کے اراکینِ اسمبلی اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں بلکہ ایک زیرِ حراست سیاسی رہنما کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل، انتظار کے باوجود پی ٹی آئی کا کوئی رہنما نہ پہنچ سکا، عمران خان کا طبی معائنہ شروع

پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن اتحاد کا اہم مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق حکومت کے سامنے 5 نکاتی مطالبات رکھے گئے ہیں جن میں سرفہرست عمران خان تک ان کے ذاتی معالجین کی فوری اور بلا رکاوٹ رسائی شامل ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ زیرِ حراست فرد کو آزادانہ اور بااعتماد طبی مشاورت کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

اعلامیے میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام طبی رپورٹس اہلِ خانہ اور نامزد ڈاکٹروں کو فراہم کی جائیں تاکہ صحت کی صورتحال کا شفاف جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلسل طبی نگرانی کا نظام وضع کرنے اور بانی کے ذاتی معالجین کو ملاقات کے بعد آزادانہ طبی رائے دینے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

اپوزیشن اتحاد نے علاج میں کسی بھی ممکنہ تاخیر پر ذمہ داران کے تعین اور جوابدہی کا تقاضا کرتے ہوئے آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کی واضح یقین دہانی بھی مانگی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صحت جیسے حساس معاملے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے تمام قانونی اور طبی تقاضے پورے کر رہے ہیں اور کسی بھی قیدی کو دستیاب طبی سہولیات سے محروم نہیں رکھا جاتا۔ تاہم اپوزیشن کا اصرار ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں غیر جانب دار میڈیکل بورڈ کی نگرانی اور ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی ناگزیر ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے نے پارلیمانی سیاست میں ایک نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے اور آنے والے دنوں میں مذاکرات یا مزید احتجاجی اقدامات صورتحال کا رخ متعین کریں گے۔ فی الحال اسلام آباد کے سیاسی منظرنامے میں دھرنا مرکزی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

Related Articles