’بیوٹی فلٹر‘ نے خاتون کو ہیرو سے زیرو کردیا، سوشل میڈیا پر’خوبصورتی کا دھوکا‘، چند منٹوں میں ڈیڑھ لاکھ فالورزغائب

’بیوٹی فلٹر‘ نے خاتون کو ہیرو سے زیرو کردیا، سوشل میڈیا پر’خوبصورتی کا دھوکا‘، چند منٹوں میں ڈیڑھ لاکھ فالورزغائب

چین میں سوشل میڈیا کی دنیا سے ایک دلچسپ مگر سبق آموز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک معروف خاتون انفلوئنسر کی لائیو اسٹریمنگ کے دوران بیوٹی فلٹر اچانک بند ہوگیا اور ان کا اصل چہرہ ناظرین کے سامنے آگیا، جس کے بعد انہیں بھاری مالی اور ساکھ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ انفلوئنسر ایک مقبول چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر براہِ راست نشریات کر رہی تھیں۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر لائیو سیشنز میں میک اپ ٹپس، جلد کی نگہداشت اور فیشن سے متعلق مشورے دیتی تھیں۔ ان کی ویڈیوز میں استعمال ہونے والا بیوٹی فلٹر چہرے کو ہموار، جھریوں سے پاک اور زیادہ جوان دکھاتا تھا، جس کی بدولت وہ لاکھوں مداحوں میں مقبول تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکن شائقین نے پاکستانی ٹیم کے لیے دل کھول دیے، ’’ویلکم پاکستان‘‘ سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

تاہم حالیہ لائیو نشریات کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث فلٹر اچانک غیر فعال ہوگیا۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ فلٹر ختم ہوتے ہی ان کی قدرتی جلد، جھریاں اور عمر کے اثرات نمایاں ہوگئے۔ ناظرین کی بڑی تعداد نے اس لمحے کو اسکرین ریکارڈ کر لیا اور چند ہی گھنٹوں میں ویڈیو مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئی۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے انفلوئنسر پر فالوورز کو گمراہ کرنے اور مصنوعی خوبصورتی دکھانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اصل عمر اور شکل کو چھپا کر مصنوعات کی تشہیر کر رہی تھیں۔ دوسری جانب کچھ صارفین نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بیوٹی فلٹر اور تصویری اثرات آن لائن تفریح اور ڈیجیٹل کلچر کا عام حصہ ہیں اور انہیں دھوکہ قرار دینا مناسب نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق واقعے کے فوری بعد انفلوئنسر کے تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار فالوورز کم ہوگئے۔ اس کے علاوہ لائیو سیشنز کے دوران ملنے والے تحائف اور عطیات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض برانڈز نے عارضی طور پر ان کے ساتھ اشتہاری معاہدوں پر نظرِ ثانی بھی شروع کردی ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کے ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سوشل میڈیا پر پیش کی جانے والی تصویر ہمیشہ مکمل سچائی کی عکاس نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیوٹی فلٹرز اور تصویری ایڈیٹنگ ٹولز نے آن لائن دنیا میں خوبصورتی کے غیر حقیقی معیار قائم کر دیے ہیں، جس سے نہ صرف ناظرین بلکہ خود مواد تخلیق کرنے والے افراد بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سماجی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ایسے واقعات نوجوانوں کے لیے سبق ہیں کہ وہ آن لائن دکھائی جانے والی ہر چیز کو حقیقت نہ سمجھیں۔ حقیقی زندگی اور ڈیجیٹل دنیا میں واضح فرق موجود ہے، جسے سمجھنا ضروری ہے۔

تاحال مذکورہ انفلوئنسر کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ان کے مداحوں کو انتظار ہے کہ وہ اس اچانک پیش آنے والے واقعے پر اپنی وضاحت پیش کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *