موبائل فون پر عائد ٹیکس کے حوالے سے اہم وضاحت سامنے آگئی۔ چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے واضح کیا ہے کہ موبائل ٹیکس کا پی ٹی اے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو وصول کرتا ہے اور اس کا اطلاق حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ موبائل صارفین میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ٹیکس کا نفاذ یا وصولی پی ٹی اے کے ذریعے کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کا کردار ریگولیٹری ہے جبکہ ٹیکس پالیسی اور وصولی ایف بی آر کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
فائیو جی ٹیکنالوجی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹیلی کام انڈسٹری نے فائیو جی آلات کے آرڈرز پہلے ہی دے دیے ہیں اور آپریٹرز کے خدشات کو دور کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکٹرم کی نیلامی کے حوالے سے حتمی فیصلہ قبل از وقت ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ 50 فیصد سے زائد اسپیکٹرم نیلام ہو سکتا ہے، جس کی صورت میں اسے کامیاب نیلامی تصور کیا جائے گا۔
چیئرمین پی ٹی اے نے مقامی صنعت پر زور دیا کہ فائیو جی موبائل فونز کی تیاری پر توجہ دی جائے تاکہ جدید ٹیکنالوجی عام صارفین تک پہنچ سکے اور مستقبل میں سستے اسمارٹ فونز بھی مارکیٹ میں دستیاب ہوں۔
ان کے اس بیان کے بعد موبائل ٹیکس سے متعلق جاری بحث میں نئی وضاحت سامنے آئی ہے، جس سے صارفین کے کئی خدشات دور ہونے کی توقع ہے۔