مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ پابندیوں یا سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت میں 4.59 ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 64.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ اسی طرح برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 2.86 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 70.35 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ مجموعی طور پر خام تیل کی قیمت میں تقریباً ساڑھے چار فیصد اضافہ دیکھا گیا جو حالیہ ہفتوں کا بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ عالمی تیل سپلائی کا اہم خطہ ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی سیاسی یا عسکری کشیدگی فوری طور پر عالمی منڈی کو متاثر کرتی ہے۔ سرمایہ کاروں میں خدشہ پایا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مہنگائی پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ان ممالک میں جو تیل درآمد کرتے ہیں۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار اور صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اس پیش رفت کے بعد اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی جانب منتقل ہوتے نظر آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں جغرافیائی صورتحال اور سفارتی بیانات تیل کی قیمتوں کے رجحان کا تعین کریں گے۔