سپریم کورٹ میں قصور کے قتل کیس میں سزائے موت کے ملزم کی اپیل پر سماعت کے دوران دلچسپ اور غیر معمولی مکالمہ دیکھنے میں آیا، جہاں جسٹس ہاشم کاکڑ نے مقتول کے والد کی چار شادیوں پر ریمارکس دیے۔
سماعت کے دوران مقتول کے والد ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے اور اپنی سابقہ اہلیہ کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر وکیل مدعی نے عدالت کو بتایا کہ سامنے موجود خاتون مقتول کی والدہ ہیں اور وہ ملزم کو اللہ کے واسطے معاف کرنا چاہتی ہیں۔
عدالت نے والدہ سے استفسار کیا کہ کیا کسی نے اس فیصلے پر دباؤ ڈالا ہے، جس پر انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے ملزم کو معاف کرنا چاہتی ہیں۔
کارروائی کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ویڈیو لنک پر موجود افراد کے بارے میں دریافت کیا تو وکیل مدعی نے بتایا کہ سامنے کھڑے شخص کی سابقہ بیوی ہے اور مقتول ان دونوں کا بیٹا تھا۔
بعد ازاں عدالت نے مقتول کے والد سے ان کی شادیوں کی تعداد کے بارے میں سوال کیا۔ والد نے بتایا کہ ان کی چار شادیاں ہیں۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے، ’’تم نے اپنی شکل دیکھی ہے، تم کیا شاہ رخ خان ہو، چار شادیاں کیسے کر لیں؟‘‘ عدالت نے والدہ سے بھی مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ اس شخص کی کس بات پر راضی ہوئیں۔
وکیل ملزم نے عدالت سے استدعا کی کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ اگر راضی نامہ پیش کیا جائے تو معاملے کو دیکھا جا سکتا ہے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی آئندہ سماعت لاہور رجسٹری میں مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔