اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں حالیہ خودکش حملوں، بالخصوص رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بنوں اور امام بارگاہ اسلام آباد پر حملوں کے بعد پاکستان نے دو ٹوک مؤقف اختیار کر لیا۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ تمام دہشتگرد کارروائیاں خوارج نے اپنے افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کی ہدایت پر انجام دیں۔
وزارت اطلاعات ک بیان کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، جو فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے اتحادی گروہوں، نیز دولت اسلامیہ خراسان صوبہ کی جانب سے بھی قبول کی گئی۔ وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ یہ عناصر افغانستان میں موجود اپنی قیادت کے زیرِ اثر پاکستان میں دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ اس نے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشتگرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کی جانب سے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جا سکے، تاہم مؤقف کے مطابق افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی ٹھوس اور مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔
Press Release
21 February, 2026In the aftermath of recent suicide bombing incidents in Pakistan, including Imam Bargah at Islamabad, one each in Bajaur and Bannu followed by another incident today in Bannu during the holy month of Ramzan, Pakistan has conclusive evidence that…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 21, 2026

