انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستانی کرکٹرز کو انگلینڈ کی ڈومیسٹک وائٹ بال ٹورنامنٹ ’دی ہنڈرڈ‘ سے باہر رکھا گیا تو یہ نہ صرف افسوسناک ہوگا بلکہ مقابلوں کے معیار پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ہمیشہ سے ایک عظیم کرکٹ ملک رہا ہے اور وہاں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے‘۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئندہ ماہ ہونے والی پلیئرز نیلامی میں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد کرکٹ حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے اور کئی سابق کھلاڑیوں نے بھی اس معاملے پر رائے دی ہے۔
اس سے قبل سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ پر زور دیا تھا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ٹورنامنٹ میں بہترین عالمی کھلاڑیوں کی شرکت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کرکٹ کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے‘۔
ہیری بروک نے سری لنکا کے خلاف میچ سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان کی توجہ عالمی کپ پر مرکوز ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’نیلامی میں پچاس سے ساٹھ کھلاڑی شامل ہوتے ہیں، ایسے میں چند شاندار پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہوگا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ نہ صرف بہترین کرکٹر ہیں بلکہ شائقین کو بھی بڑی تعداد میں میدان میں لاتے ہیں‘۔
واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کی ٹیمیں صرف بین الاقوامی مقابلوں میں ہی مدمقابل آتی ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت محدود رہی ہے، جس کے باعث شائقین کو کئی بڑے مقابلوں سے محروم رہنا پڑا۔
دوسری جانب ’دی ہنڈرڈ‘ کے منتظمین کا مؤقف ہے کہ لیگ دنیا بھر کے مرد و خواتین کھلاڑیوں کا خیرمقدم کرتی ہے اور تمام آٹھ ٹیمیں تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ گزشتہ سیزن میں صرف محمد عامر اور عماد وسیم نے اس لیگ میں شرکت کی تھی، تاہم شائقین کی خواہش ہے کہ آئندہ سیزن میں مزید پاکستانی ستارے ایکشن میں دکھائی دیں۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تو اس سے لیگ کی مقبولیت اور مسابقتی معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور شائقین کا کہنا ہے کہ ’کرکٹ سرحدوں سے بالاتر کھیل ہے‘، اس لیے بہترین کھلاڑیوں کو موقع ملنا چاہیے۔