امریکہ کے بیشتر شہریوں نے رائے دی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی مفادات کے لیے سودمند نہیں بلکہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات تاحال جاری ہیں جبکہ تنازع اپنے100 روز کے قریب پہنچ چکا ہے، اس دوران یہ جنگ امریکی عوام میں بدستور غیر مقبول سمجھی جا رہی ہے۔
مختلف عوامی جائزوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل بھی امریکی شہریوں کی اکثریت ایران پر فوجی حملوں کی مخالف تھی 28 فروری کو کارروائیوں کے آغاز کے بعد بھی عوامی رائے میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور بڑی تعداد میں ووٹرز اس جنگ کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں۔
شبلی تلحمی، جو یونیورسٹی آف میری لینڈ میں امن اور ترقی کے امور کے پروفیسر ہیں، نے اس حوالے سے متعدد عوامی سروے کیے ہیں ان کے مطابق ایک بات واضح ہے کہ بہت کم امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی مفادات کی خدمت کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے لیے عوامی حمایت کا فقدان ایک اہم سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے ڈونلڈ ٹرمپ کی داخلی سیاسی پوزیشن متاثر ہونے کا امکان ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہتی ہے اور عوامی مخالفت برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات آئندہ انتخابات، حکومتی پالیسیوں اور امریکی سیاسی منظرنامے پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔