حکومتِ پنجاب نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی فیصلہ کن اور اصلاحات پر مبنی قیادت میں ‘گندم پالیسی 2026’ کی منظوری دے دی ہے۔
یہ پالیسی نجی شعبے کی قیادت میں اسٹریٹجک گندم کے ذخائر کی دیکھ بھال، ہولڈنگ اور سپلائی کے لیے ایک تاریخی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک ہے، جسے غذائی تحفظ، مارکیٹ کے استحکام اور گندم کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس پالیسی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں حکومت کی جانب سے کوئی خریداری نہیں کی جائے گی اور نہ ہی عوامی خزانے سے کوئی رقم خرچ ہوگی۔
یہ پالیسی ریاست کے زیرِ انتظام ذخیرہ اندوزی کے نظام سے ایک ساختی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے
-یہ پالیسی سرکاری سطح پر ذخیرہ اندوزی کے بجائے مارکیٹ کے مطابق نجی مالیاتی نظام کی طرف ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔
اس نظام میں حکومت صرف ریگولیٹری اور نگرانی کا کردار ادا کرے گی، جبکہ نجی شعبہ گندم کی خریداری، فنانسنگ، ذخیرہ اندوزی اور اسپلائی کی ذمہ داری سنبھالے گا۔
پالیسی کے اہم نکات خریداری کا طریقہ کار: گندم کی خریداری نجی شعبے کے ’ایگریگیٹرزئ کے ذریعے کی جائے گی، جن کا انتخاب ایک شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے ہوگا۔
بینچ مارک قیمت: کسانوں سے گندم 3,500 روپے فی 40 کلوگرام کی مقررہ قیمت پر خریدی جائے گی۔
عوامی خزانے کی بچت: یہ فریم ورک سرکاری خزانے سے ایک پیسہ خرچ کیے بغیر غذائی تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کسانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔کسانوں کے لیے مارکیٹ تک یقینی رسائی ہے کسانوں کو براہ راست اور بروقت ڈیجیٹل ادائیگیاں کی جائیں گی۔
تاخیر کا خاتمہ: سرکاری خریداری میں ہونے والی روایتی تاخیر کو ختم کیا جائے گا۔
نگرانی اور شفافیت اورانتظامی کمیٹیاں: ڈویژنل اسٹریٹجک ریزرو مینجمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔ آزاد مانیٹرنگ، آڈٹ اور شکایات کے ازالے کا ایک جامع نظام موجود ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا وژن،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے مطابق پنجاب اپنے کسانوں کی مدد کرنے، خوراک کی منڈیوں کو مستحکم کرنے اور سمارٹ گورننس کے ذریعے صارفین کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ گندم پالیسی 2026 ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالے بغیر غذائی تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔