بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ خواتین کے لیے حکومت کا بڑا اعلان

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ خواتین کے لیے حکومت کا بڑا اعلان

حکومتِ پاکستان نے خواتین کو بااختیار بنانے اور مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ خواتین کو مفت سم فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستحق خواتین کو براہ راست ڈیجیٹل نظام سے جوڑنا اور مالی معاونت کی ترسیل کو مزید شفاف اور محفوظ بنانا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ خواتین بائیومیٹرک تصدیق کے بعد مفت سم حاصل کر سکیں گی۔ اس سم کے اجرا کے ساتھ ہی ان کے نام پر سوشل پروٹیکشن والٹ کھولا جائے گا، جس کے ذریعے تمام مالی لین دین انجام دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ والٹ خواتین کے لیے ایک باقاعدہ ڈیجیٹل بٹوہ ہوگا جس میں سرکاری امداد، وظائف اور اقساط براہ راست منتقل کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی رقم بڑھا دی گئی

متعلقہ حکام کے مطابق مستقبل میں بی آئی ایس پی کی تمام اقساط اور دیگر مالی امداد اسی ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جس سے درمیانی افراد کے کردار کو ختم کرنے اور بدعنوانی کے امکانات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس نظام کے تحت مستحق خواتین کو رقم وصول کرنے کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے یا ایجنٹوں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

بی آئی ایس پی انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ رجسٹرڈ خواتین مفت سم اور والٹ کی سہولت حاصل کرنے کیلئے اپنے قریبی دفتر یا قائم کردہ کیمپ سائٹس سے رجوع کریں۔ بائیومیٹرک تصدیق کے بعد سم ان کے نام پر جاری کی جائے گی تاکہ مکمل شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ فراہم کی جانے والی سم محض ایک موبائل سم نہیں بلکہ خواتین کا ڈیجیٹل بٹوہ ہے، اس لیے اس کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی قسم کا کوڈ، پیغام یا ذاتی معلومات کسی غیر متعلقہ فرد کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں۔ اگر کسی کو مشکوک کال یا پیغام موصول ہو تو فوری طور پر بی آئی ایس پی ہیلپ لائن یا قریبی دفتر سے رابطہ کیا جائے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ اقدام نہ صرف خواتین کی مالی خودمختاری کو مضبوط کرے گا بلکہ انہیں ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں کی خواتین کیلئے یہ سہولت خاص طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے، جہاں بینکنگ سہولیات محدود ہیں۔

سماجی حلقوں نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے خواتین کو براہ راست مالی وسائل تک رسائی ملے گی اور وہ اپنے گھریلو اور ذاتی فیصلوں میں زیادہ خودمختار ہو سکیں گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *