مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جہاں ایران نے امریکی ناکا بندی کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی کارروائی کی جائے گی جو طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔
ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز میں امریکی اقدامات کو “قزاقی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی تجارت میں کھلی مداخلت اور ایرانی املاک پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور جواب دینے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افواج مکمل تیاری میں مصروف ہیں اور ممکنہ اہداف کی فہرستیں مسلسل اپ ڈیٹ کی جا رہی ہیں۔ فوجی حکام کے مطابق اگرچہ بظاہر جنگ بندی کا تاثر دیا جا رہا ہے تاہم ایران اسے حتمی امن نہیں سمجھتا اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے ایران کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد ناکا بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف “مختصر مگر طاقتور” حملوں کا منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اسے مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔ ممکنہ طور پر ان حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں یہ تنازع خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور خطے میں اثر و رسوخ کے معاملے پر مزید گہرا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے ، یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔