پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی داستان، کتاب ‘معرکہ حق’ کی پروقار تقریبِ رونمائی 5 مئی کو ہو گی

پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی داستان، کتاب ‘معرکہ حق’ کی پروقار تقریبِ رونمائی 5 مئی کو ہو گی

قومی غیرت، جرات اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے والی فتوحات کی تاریخ کو یکجا کرنے والی نئی کتاب ’معرکہ حق‘ کی پروقار تقریبِ رونمائی 5 مئی 2026 کو منعقد کی جائے گی۔

یہ کتاب محض ایک تحریر نہیں بلکہ پاکستان کے دفاع، وقار اور دانشمندانہ سفارت کاری کا ایک جامع عکاس ہے، جس میں دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے کی مکمل داستان بیان کی گئی ہے۔

کتاب میں اس درخشاں باب کو اجاگر کیا گیا ہے جب پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوگئی اور ثابت کیا کہ وطن کا دفاع ہر قیمت پر مقدم ہے۔

دشمن کی سازشوں کا پردہ چاک

’معرکہ حق‘ میں خاص طور پر بھارت کی جانب سے کی جانے والی ریشہ دوانیوں، فالس فلیگ آپریشنز اور ریاستی سرپرستی میں پھیلی دہشت گردی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی پی کا 9 مئی کو “جشن معرکہ حق” منانے کا فیصلہ،خصوصی تقریبات ہونگی

 کتاب کے مندرجات کے مطابق، جب بھی دشمن نے مہم جوئی کی کوشش کی، پاک فوج نے ایسا دندان شکن جواب دیا کہ دشمن کو اپنی جان بچانے کیلئے عالمی ثالثوں کی منت سماجت کرنا پڑی۔ یہ کتاب پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام اور عوامی و عسکری اتحاد کی وہ زندہ مثال ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔

معرکہ حق اور قومی یکجہتی

پاکستان کی تاریخ ایسے کئی معرکوں سے بھری پڑی ہے جہاں عددی برتری کے زعم میں مبتلا دشمن کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ’معرکہ حق‘ کا پس منظر ان حالیہ برسوں کے واقعات پر مبنی ہے جب سرحدوں پر کشیدگی اور اندرونی خلفشار پیدا کرنے کی غیر ملکی سازشیں عروج پر تھیں۔

اس دوران پاک فوج نے نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کی بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اس کتاب کا مقصد ان فتوحات کو دستاویزی شکل دینا ہے تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ پاکستانی قوم اور فوج ایک جان و دو قالب ہیں۔

دفاعی بیانیے کی اہمیت

واضع ‘معرکہ حق’ جیسی کتب کی اشاعت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں جہاں ہائبرڈ وار فیئر (مخلوط جنگ) کے ذریعے ذہنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، وہاں اپنی فتوحات اور دشمن کی مکاریوں کو دستاویزی شکل دینا ’انفارمیشن وار‘ میں ایک اہم ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔

یہ کتاب نہ صرف سفارتی محاذ پر پاکستان کے مضبوط موقف کی تائید کرتی ہے بلکہ دشمن کے اس پروپیگنڈے کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ عالمی ثالثوں کی مداخلت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

Related Articles