بین الاقوامی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے باوجود ایرانی ریال نے حالیہ ہفتوں میں پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں غیر معمولی مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے، جہاں اس کی طلب اور قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق تازہ ترین اوپن مارکیٹ ریٹس کے مطابق ایک پاکستانی روپے کے بدلے تقریباً 4,953.72 ایرانی ریال جبکہ 10 پاکستانی روپے کے بدلے 49,537.22 ایرانی ریال مل رہے ہیں۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق کراچی، لاہور اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ایرانی ریال کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ عرصے کے دوران مقامی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر تقریباً چار گنا تک بڑھ چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ امن معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں اور تاجروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد صرف چار روز کے اندر پاکستان بھر میں تقریباً دو کھرب ایرانی ریال کی خرید و فروخت ریکارڈ کی گئی، جو مقامی کرنسی مارکیٹ میں غیر معمولی سرگرمی کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے بتایا کہ معاہدے کے پہلے ہی روز تقریباً 40 ارب ایرانی ریال خریدے گئے، جبکہ اس کے بعد بھی خریداری کا سلسلہ تیزی سے جاری رہا۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ایران سے تجارت، سرحدی کاروباری سرگرمیوں، مستقبل میں پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی توقعات اور سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان نے پاکستانی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں اضافہ کیا ہے تاہم ان کے مطابق یہ اضافہ بنیادی طور پر مقامی مارکیٹ کی طلب و رسد سے جڑا ہوا ہے اور اسے عالمی سطح پر ایرانی ریال کی مجموعی قدر میں مستقل بہتری قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ کرنسی کی خرید و فروخت سے قبل مستند ایکسچینج ریٹس اور مارکیٹ کی تازہ صورتحال کا ضرور جائزہ لیں، کیونکہ کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کسی بھی وقت قیمتوں میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔