1 ڈالر میں 18 لاکھ ایرانی ریال، تہران کی معیشت کو سنگین خطرات لاحق

1 ڈالر میں 18 لاکھ ایرانی ریال، تہران کی معیشت کو سنگین خطرات لاحق

ایران کی معیشت اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے جہاں ایرانی کرنسی ’ریال‘ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 18 لاکھ فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح پر گر گئی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ محض گزشتہ 2 دنوں میں آنے والی یہ غیر معمولی کمی ملک میں پہلے سے موجود مہنگائی کے طوفان کو مزید شدید کر دے گی۔

اس گراوٹ کی بڑی وجہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ گزشتہ 6 ہفتوں سے جاری براہِ راست لڑائی ہے، جس کے دوران غیر ملکی کرنسی کی چھپی ہوئی طلب اب کھلی منڈی میں ایک دھماکے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

انفراسٹرکچر کی تباہی اور ناکہ بندی

رپورٹس کے مطابق ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی نے تہران کا معاشی گلا گھونٹ دیا ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل یا تو روک دی گئی ہے یا پھر بین الاقوامی سطح پر اسے ضبط کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی غیر سرکاری اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

اس کے علاوہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کے صنعتی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے اسٹیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات، جو کہ زرمبادلہ کمانے کا دوسرا بڑا ذریعہ تھیں، مکمل طور پر معطل ہو چکی ہیں۔

2025 سے 2026 تک کا معاشی سفر

ایرانی معیشت کا یہ زوال اچانک نہیں بلکہ مسلسل جاری رہنے والی عالمی پابندیاں بھی ہیں، سال 2025 میں ایرانی ریال کی قدر میں تقریباً 70 فیصد کمی دیکھی گئی تھی، جس نے ملک گیر احتجاجی لہر کو جنم دیا تھا۔

ایرانی مرکزی بینک کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 20 مارچ سے 20 اپریل 2026 تک کے ایک ماہ کے عرصے میں مہنگائی کی شرح 65.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ عوام کی قوتِ خرید کے خاتمے کی علامت ہے۔

6 ہفتوں کی مسلسل فوجی مصروفیت نے ایران کے دفاعی بجٹ پر بوجھ ڈالا ہے جس کے لیے حکومت کو بڑے پیمانے پر نوٹ چھاپنے پڑے، جس نے ریال کی قدر کو مزید گرا دیا۔

ناکہ بندی اور برآمدات کی معطلی کے دوررس اثرات

موجودہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو ایرانی حکومت کے سامنے چند بڑے چیلنجز ہیں، تیل، اسٹیل اور پیٹروکیمیکل ایران کی معیشت کے 3 ستون تھے۔

ان تینوں کی برآمدات رکنے کا مطلب ہے کہ ایرانی بینکوں میں ڈالر کی آمد صفر ہو چکی ہے، جبکہ جنگی سازوسامان اور اشیائے ضروریہ کی درآمد کے لیے ڈالرز کی اشد ضرورت ہے۔

18 لاکھ ریال فی ڈالر کی سطح کا مطلب یہ ہے کہ درآمدی اشیا  (ادویات اور خوراک) عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ ماضی کی طرح 2026 میں بھی یہ معاشی صورتحال کسی بڑی سیاسی تبدیلی یا پرتشدد احتجاج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

جب تک ایرانی بندرگاہیں فنکشنل نہیں ہوتیں اور برآمدات بحال نہیں ہوتیں، مرکزی بینک کے پاس مارکیٹ میں مداخلت کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔

Related Articles