ازبکستان کے صوبہ سرخان دریا میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے سکندرِ اعظم کے دور سے منسوب تقریباً 2200 سال پرانا یونانی فوجی کیمپ دریافت کیا ہے، جسے وسطی ایشیا کی اہم تاریخی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مقام اسکندر تپہ کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے قدیم عسکری ڈھانچے کے اہم آثار سامنے آئے ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے میگنیٹومیٹری، گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار (جی پی آر) اور سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے تقریباً 400 میٹر طویل حفاظتی خندق، لکڑی سے تعمیر کی گئی دفاعی باڑ کے آثار اور 90 سے زائد قبریں دریافت کی ہیں۔
کھدائی کے دوران ملنے والے سکے یونانی، بیکٹرین حکمرانوں کے دور سے تعلق رکھتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مقام سکندرِ اعظم کی فتوحات کے بعد یونانی فوجی موجودگی کا اہم مرکز رہا ہوگا۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ دریافت وسطی ایشیا میں یونانی فوجی سرگرمیوں، دفاعی حکمت عملی اور اس دور کی تہذیبی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی، جبکہ مستقبل میں مزید کھدائی سے اس مقام کے بارے میں نئی معلومات سامنے آنے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔