ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں کرے گا۔
پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور اور دندان شکن جواب دیا جائے گا، تاہم تہران سفارت کاری کے دروازے بند کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
ترجمان نے انکشاف کیا کہ ایران نے امریکی صدر کی تجاویز پر اپنا ’متوازن‘ جواب گزشتہ روز پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو بھجوا دیا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے پیشہ ورانہ انداز اور ثالثی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران نے چین کو بھی امریکی اقدامات سے پیدا ہونے والے ممکنہ عدم استحکام سے آگاہ کر دیا ہے۔ ایران کے مطالبات میں جنگ کا خاتمہ، معاشی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور سمندری راستوں کی بحالی شامل ہے۔
پاکستان کی ثالثی اور علاقائی سیکیورٹی
ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات کی عدم موجودگی میں پاکستان طویل عرصے سے ایک ’سہولت کار‘ کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے لیے ایک معتبر پل کا کام کیا ہے تاکہ خطے کو کسی نئی جنگ سے بچایا جا سکے۔
یہ وہ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس کی بندش کا مطلب عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناقابلِ برداشت اضافہ ہے۔ امریکا نے کئی دہائیوں سے ایران کے اربوں ڈالرز کے اثاثے منجمد کر رکھے ہیں، جن کی واپسی ایران کا دیرینہ مطالبہ ہے۔
بقائی کے بیان کے پوشیدہ معنی
اسماعیل بقائی کا بیان ایک ’نپی تلی‘ سفارت کاری کا عکاس ہے جس کے تین اہم پہلو ہو سکتے ہیں، ان میں ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کمزوری کی بنیاد پر مذاکرات نہیں کر رہا۔ ’بھرپور جواب‘ کی دھمکی فوجی طاقت کا اظہار ہے جبکہ ’سفارت کاری کے اصولوں‘ کا ذکر عالمی برادری کو یہ بتانے کے لیے ہے کہ ایران ایک ذمہ دار ریاست ہے۔
یورپی ممالک کو آبنائے ہرمز میں مداخلت سے روکنا دراصل توانائی کی سیاست کا استعمال ہے۔ ایران جانتا ہے کہ اگر یورپ نے امریکا کا ساتھ دیا تو توانائی کا بحران سب سے پہلے یورپی معیشتوں کو ڈبو دے گا۔
چین کو اعتماد میں لینا ظاہر کرتا ہے کہ ایران اب صرف مغرب کی طرف نہیں دیکھ رہا بلکہ وہ بیجنگ اور اسلام آباد کے ساتھ مل کر ایک علاقائی بلاک کی صورت میں امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔