اسلام آباد ، لاہور کراچی سمیت دیگر شہروں میں مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے عام صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ متعدد بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے روزمرہ بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ادھواڑ چاول کی قیمت میں 10 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 280 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح شکر کی قیمت میں بھی 5 روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ 320 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔
آٹے کی قیمت میں بھی ہر گزرتے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے دوکاندار گورنمنٹ کے مقرر کردہ ریٹس سے زائد پو فروخت کر رہے ہیں جبکہ دودھ دھی گوشت سمیت دیگر اشیا کی قیمتیں اب کنٹرول سے باہر ہورہی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے
ذرائع کے مطابق 125 گرام پیک سرخ مرچ کی قیمت میں بھی 8 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے گھریلو استعمال کی اشیاء مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔ مسالہ جات اور دیگر روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ طلب و رسد کے عدم توازن ترسیلی اخراجات اور مارکیٹ میں غیر مستحکم صورتحال قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس دوران بعض دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہی ہیں،تاہم مجموعی طور پر مہنگائی کا رجحان برقرار ہے۔
شہریوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پرائس کنٹرول میکانزم کو مؤثر بنایا جائے اور سرکاری ریٹ لسٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مصنوعی مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔