لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں صوبے کے تعلیمی نظام کو یکساں معیار پر لانے کے لیے متعدد بڑے فیصلے کیے گئے ہیں، جنہیں تعلیمی اصلاحات کی سمت ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں اسکول اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مختلف منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پہلی مرتبہ کالج ایجوکیشن کو ایک ہی معیار کے تحت لانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں تعلیمی معیار نافذ کیا جائے گا۔
اس موقع پر کالج طلبہ کے لیے الیکٹرک بس سہولت فراہم کرنے اور ہونہار طلبہ کے لیے اسکالر شپ کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے تمام اہل طلبہ کو وظیفہ دینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں :زمین کی خریدوفروخت کرنیوالے شہریوں کے لیے پنجاب حکومت کا بڑااقدام
مزید فیصلوں کے تحت پنجاب کے تمام کامرس کالجز کو متعلقہ سرکاری جامعات سے منسلک کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 29 اضلاع کے 36 کامرس کالجز کو 19 سرکاری جامعات سے جوڑا جائے گا
اور ہر کالج کو اپنے ضلع کی قریبی سرکاری یونیورسٹی کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، جس سے تعلیمی معیار میں بہتری متوقع ہے۔اجلاس میں 166 سرکاری کالجز میں جدید آئی ٹی لیبارٹریاں قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی، تاکہ طلبہ کو دور حاضر کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ اقلیتی طلبہ کو اوپن میرٹ پر لیپ ٹاپ دینے کی ہدایت بھی دی گئی، جسے مساوی تعلیمی مواقع کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق دوسرے مرحلے میں طلبہ کے لیے اربوں روپے کے تعلیمی وظائف مختص کیے گئے ہیں، جبکہ خصوصی طلبہ کے لیے بھی اسکالر شپ پروگرام جاری رکھا جائے گا۔ مزید یہ کہ گوگل کے تعاون سے ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو مفت سرٹیفکیشن کورسز فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ لیپ ٹاپ اسکیم سے 98 فیصد طلبہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ حالیہ تعلیمی اسیسمنٹ امتحانات میں طالبات کی کارکردگی نمایاں رہی، جہاں ان کا کامیابی کا تناسب طلبا سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعلیمی شعبے میں مزید بہتری کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔