وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر دیہی خواتین کو معاشی طور پر مضبوط اور خودمختار بنانے کے لیے شی تھریڈز منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے لیے 31 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، جس کا مقصد خواتین کو ٹیکسٹائل کے شعبے میں جدید مہارتیں سکھا کر انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے،منصوبے کے تحت پنجاب بھر کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی 18 سے 45 سال عمر کی مڈل پاس خواتین کو پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی۔
تربیت کے دوران شرکاء کو ماہانہ 15 ہزار روپے وظیفہ دینے کے ساتھ ساتھ آمدورفت کے اخراجات کے لیے سفری الاؤنس بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ مالی مشکلات خواتین کی تربیت میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
حکومتی حکام کے مطابق یہ منصوبہ خواتین کی معاشی ترقی اور گھریلو آمدنی میں اضافے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا، تربیتی پروگرام میں ٹیکسٹائل صنعت سے متعلق مختلف شعبوں کی عملی اور فنی تعلیم دی جائے گی، جس کے ذریعے خواتین کو صنعت کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :بجٹ سے قبل ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ خواتین کو مالی طور پر خودمختار بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہنرمند خواتین نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت میں معاون ثابت ہوں گی بلکہ ملکی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گی،انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ خواتین کے لیے وسیع روزگار کے مواقع رکھتا ہے اور یہ منصوبہ انہیں باعزت روزگار حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
اس وقت تربیتی پروگرام لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں جاری ہے، گزشتہ دو برسوں کے دوران 2 ہزار 500 خواتین مختلف تربیتی کورسز مکمل کر چکی ہیں، جن میں سے 773 خواتین کو ٹیکسٹائل صنعت میں ملازمتیں بھی حاصل ہوئی ہیں،حکام کے مطابق اس وقت 1 ہزار 150 خواتین زیرِ تربیت ہیں جبکہ آئندہ سال مزید 1 ہزار 350 خواتین کو پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔
تربیتی نصاب میں صنعتی سلائی مشین چلانے، کپڑے کے معیار کی جانچ، کپڑے کی کٹنگ، ملبوسات کی منصوبہ بندی، نگرانی، نمونہ سازی اور دیگر فنی مہارتوں کے کورسز شامل ہیں،ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ دیہی خواتین کو ہنرمند افرادی قوت میں تبدیل کرنے اور انہیں مستقل روزگار کی طرف لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔