معروف جریدے نے بھارت افغانستان گٹھ جوڑ اور افغان پالیسوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

معروف جریدے نے بھارت افغانستان گٹھ جوڑ اور افغان پالیسوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

بھارت افغانستان میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کی کوششوں میں مصروف ہے۔معروف جریدے “پالیسی جنرل” نے بھارت افغانستان گٹھ جوڑ اور افغان پالیسوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

جریدے کے مطابق بھارت نے داخلی دباؤ کے باوجود طالبان کے ساتھ سفارتی روابط بڑھانے کا راستہ اختیار کر لیا۔بھارت طالبان کے ذریعے خطے میں اپنے سکیورٹی مفادات کو تحفظ دینے میں مصروف ہے۔پالیسی جنرل نے سوال اُٹھایا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود طالبان کو قبول کرنے کا جواز کیا ہے؟

آرٹیکل میں افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق بھی سخت سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

آرٹیکل میں تصدیق کی گئی ہے کہ افغانستان آج صنفی امتیاز اور جبر کی نمایاں ترین مثال بن چکا ہے اور خواتین کے حقوق سے متعلق سوالات برقرار ہیں۔افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

پالیسی جنرل کے مطابق افغانستان کے معدنی وسائل اس وقت عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز ہیں ، انسانی حقوق کے کارکن طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی کوششوں پر تنقید کر رہے ہیں۔

ماہرین کی رائے ہے کہ افغانستان میں صنفی حقوق کی صورتحال بدستور تشویش ناک ہے۔طالبان کو عالمی قبولیت دینے کی کوششیں خواتین کے حقوق کے سوالات کو پسِ پشت ڈال رہی رہیں۔سیاست کے کھیل میں افغان خواتین کے حقوق ثانوی حیثیت اختیار کر چکےہیں۔

editor

Related Articles