آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے کیا ہونے والا ہے؟، نائب ایرانی صدر محمد رضا عارف نے دُنیا کو بڑے خطرے سے آگاہ کر دیا

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے کیا ہونے والا ہے؟، نائب ایرانی صدر محمد رضا عارف نے دُنیا کو بڑے خطرے سے آگاہ کر دیا

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد بین الاقوامی پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات کے منفی اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب ایران پر عائد معاشی اور عسکری دباؤ کا خاتمہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی مال بردار جہاز قبضے میں لے لیا ، امریکی صدر کا دعوی

نائب صدر محمد رضا عارف نے تیکھے لہجے میں کہا کہ یہ منطق ناقابلِ قبول ہے کہ ایک طرف ایران کی تیل کی برآمدات کو محدود کیا جائے اور دوسری طرف دیگر ممالک کے لیے سمندری گزرگاہوں اور تیل کی ترسیل میں بلا رکاوٹ سلامتی کی توقع رکھی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی معیشت کو نشانہ بنا کر عالمی توانائی کی منڈی کو محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سامنے اب دو ہی راستے باقی ہیں، یا تو تیل کی بین الاقوامی منڈی کو تمام ممالک کے لیے یکساں طور پر آزاد رکھا جائے یا پھر ان پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین معاشی اخراجات اور عالمی بحران کا خطرہ قبول کیا جائے۔

20 اپریل 2026 کو سامنے آنے والے اس بیان نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستوں پر کشیدگی عروج پر ہے۔

ایران کے نائب صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف ’پلان بی‘ کے تحت بحری ناکہ بندی اور ٹینکرز کو قبضے میں لینے کی حکمتِ عملی پر غور شروع کیا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا پراعتماد نہیں، ضمانت چاہتے ہیں، آبنائے ہرمز سے ہم نہیں تو کوئی اور بھی نہیں گزرے گا، باقر قالیباف

ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز میں سخت کنٹرول نافذ کر چکا ہے اور اس کے اتحادی حوثیوں نے باب المندب بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ محمد رضا عارف کا بیان دراصل اس ایرانی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جسے ’سب کے لیے تیل یا کسی کے لیے نہیں‘ کہا جاتا ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران کو تیل بیچنے سے مکمل طور پر روکا گیا تو وہ اپنی جغرافیائی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی توانائی کی سپلائی لائن کو مفلوج کر سکتا ہے، جس سے خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *