پاکستانی شوبز میں ابھرتے ہوئے اداکار دوراب خلیل نے ڈرامہ ’میں منٹو نہیں ہوں‘ میں کردار حَضرت سے خوب شہرت حاصل کی اور اپنی مضبوط اداکاری سے سب کی توجہ حاصل کر لی۔دوراب خلیل معروف لکھاری خلیل الرحمان قمر کے صاحبزادے ہیں، جن کی شخصیت اور بیانات اکثر میڈیا کی توجہ میں رہتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے دوراب خلیل نے واضح کیا کہ ان کے والد نے کبھی ان کے لیے انڈسٹری میں سفارش یا فون کالز نہیں کیں۔ ان کے مطابق ان کے والد کا ماننا ہے کہ اگر کسی کو اپنی جگہ بنانے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس فیلڈ کے قابل نہیں۔
اداکار نے بتایا کہ وہ اصل میں فلم میکنگ میں آنا چاہتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے کئی سال محنت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں براہ راست کوئی آسان راستہ نہیں ملابلکہ انہوں نے خود کوشش کر کے اداکار ہمایوں سعید تک رسائی حاصل کی۔بعد میں انہیں ’میں منٹو نہیں ہوں‘ میں کردار حَضرت کی آفر ملی، جو ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔
دوراب خلیل نے کہا کہ نیپوٹزم نے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں دیا، بلکہ وہ اپنی محنت اور مستقل مزاجی سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔
اپنے والد کے تنازعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے والد ایک بڑے لکھاری ہیں، لیکن ان کے بعض بیانات سے لوگ اختلاف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوسروں کی رائے کو بھی سمجھتے ہیں اور خوش ہیں کہ انہیں کبھی صرف اپنے والد کی وجہ سے کسی امتیاز کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
دوراب خلیل نے مزید کہا کہ وہ اپنے والد سے ان کے تنازعات پر بات نہیں کرتے کیونکہ گھر اور پروفیشنل زندگی الگ چیزیں ہیں، اور ہر شخص اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتا ہے۔