مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث اسمارٹ فونز اور کمپیوٹرز سے لے کر اے آئی سرورز تک تقریباً تمام الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والے پرنٹڈ سرکٹ بورڈز (پی سی بی) کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ نے خام مال کی سپلائی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے سرکٹ بورڈز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ صورتِحال الیکٹرونکس مینوفیکچررز کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے ، جو کہ پہلے ہی میموری چپ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے مشکل میں ہیں۔
ایران نے اپریل کے آغاز میں سعودی عرب کے جوبیل پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر حملہ کیا، جس سے ہائی پیوریٹی پولی فینیلین ایتھر (پی پی ای) ریزن کی پیداوار روک دی گئی، جو کہ سرکٹ بورڈز کے ٹکڑے بنانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک اہم بنیادی مواد ہے۔
سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن جو ہائی پیوریٹی پولی فینیلین ایتھر (پی پی ای) سپلائی کا تقریباً 70 فیصد حصّہ فراہم کرتا ہے اور خلیجی ساحل پر جوبیل کمپلیکس میں کام کرتا ہے، ایران کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد ابھی تک اپنی پیداوار کو دوبارہ شروع کرنے سے قاصر ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہائی پیوریٹی پولی فینیلین ایتھر (پی پی ای) کی دستیابی ہو گئی ہے۔
سرکٹ بورڈز کی قیمتیں اے آئی سرورز کی ڈیمانڈ میں اضافے کی وجہ سے گزشتہ سال کے آخر سے ہی بڑھنا شروع ہو گئی تھیں، صرف اپریل میں سرکٹ بورڈز کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والے مزید اضافے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ وہ توقع کرتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں طلب رسد سے بڑھ جائے گی۔
پریز مارک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق عالمی سرکٹ بورڈز انڈسٹری کے 2026ء میں 12.5 فیصد اضافے کے ساتھ 95.8 بلین ڈالرز تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اس حوالے سے ایک سینئر ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی سرکٹ بورڈز بنانے والی کمپنی ڈیڈک الیکٹرانکس نے قیمتوں میں اضافے پر اپنے صارفین کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے، اس کے صارفین میں سام سنگ الیکٹرانکس، ایس کے ہینکس اور اے ایم ڈی شامل ہیں۔
امریکی ٹیک کمپنی این ویڈیا کو سرکٹ بورڈز فراہم کرنے والے چینی سپلائر وکٹری جائنٹ ٹیکنالوجی کے مطابق سرکٹ بورڈز مینوفیکچرنگ میں خام مال کی کل لاگت کا تقریباً 60 فیصد انحصار تانبے پر ہے۔
چینی سپلائر نے اس ماہ کے آغاز میں خبردار کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے ریزن اور تانبے سمیت اہم مواد کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔