امریکی جریدے کی تہلکہ خیز رپورٹ نے واشنگٹن کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پینٹاگون ممکنہ طور پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے متعلق جنگی صورتحال کی مکمل اور درست تصویر فراہم نہیں کر رہا۔
جریدےکی رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر اعلیٰ سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے اور اندرونی اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے متعدد بند کمرہ اجلاسوں میں پینٹاگون کی جانب سے دی جانے والی بریفنگز کی شفافیت پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے خاص طور پر امریکی میزائل ذخائر میں کمی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور صدر کے سامنے اس حساس معاملے کو براہ راست رکھا۔ ذرائع کے مطابق وینس نے اس بات پر زور دیا کہ جنگی صلاحیت سے متعلق معلومات مکمل طور پر واضح اور حقیقت پر مبنی ہونی چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں :مودی کے ٹرمپ اور چین کیساتھ کشیدہ تعلقات، بھارت عالمی تنہائی کا شکار،امریکی جریدے کی رپورٹ
انٹیلیجنس جائزوں کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنی فوجی طاقت کا بڑا حصہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جس میں فضائیہ کا دو تہائی حصہ، میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت اور تیز رفتار بحری کشتیاں شامل ہیں جو اہم بحری راستوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں اور اس عمل میں تیزی آ رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع کی بریفنگز کا انداز صدر کی پسند کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔ سابق حکام کے مطابق بعض اوقات صدر کو وہی معلومات دی جاتی ہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں جو کسی بھی جنگی صورتحال میں خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

