متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے عالمی تیل کی منڈی اور خلیجی سیاست میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی تیل پیداوار کی پالیسی اور موجودہ و مستقبل کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام قومی مفاد اور عالمی منڈی کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کی وجہ سے تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، تاہم طویل مدت میں عالمی توانائی کی طلب میں مسلسل اضافے کی توقع ہے۔ یو اے ای کا یہ فیصلہ یکم مئی سے نافذ العمل ہوگا۔
یو اے ای، جو طویل عرصے سے اوپیک کا اہم رکن رہا ہے، اس کے انخلا کو تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے اوپیک کے اندر اتحاد کمزور پڑ سکتا ہے، خصوصاً جب رکن ممالک پہلے ہی پیداوار اور سیاسی معاملات پر اختلافات کا شکار ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہاں سے دنیا کے پانچویں حصے کے برابر تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، لیکن ایرانی دھمکیوں اور حملوں کی وجہ سے برآمدات میں خلل پڑ رہا ہے۔
یو اے ای کا یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک کامیابی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ وہ اوپیک پر عالمی تیل کی قیمتوں کو بڑھانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکا خلیجی ممالک کو سیکیورٹی فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ ممالک بلند تیل قیمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یو اے ای نے ایران کے حملوں کے دوران دیگر عرب ممالک کی جانب سے ناکافی حمایت پر بھی تنقید کی ہے۔ یو اے ای کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے خلیجی تعاون کونسل کے ردعمل کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ مطلوبہ سیاسی اور عسکری تعاون نہیں دکھائی دیا۔
اوپیک کی بنیاد 1960 میں بغداد میں رکھی گئی تھی، اور اس میں سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور وینزویلا جیسے اہم ممالک شامل ہیں۔ اوپیک عالمی تیل مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔