پاکستان میں جاری ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے جازورلڈ نے پاک لاونچ یو این سی کانفرس 2026 میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں عالمی سطح پر دوبارہ بڑھتی ہوئی دلچسپی اب محض مواقع سے نکل کر بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کی طرف جا رہی ہے۔
دو روزہ کانفرنس میں اسٹارٹ اپ بانیان، سرمایہ کار، پالیسی ساز اور عالمی ماہرین نے شرکت کی اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور مستقبل کی ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال کیا۔ ایجنڈے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، فنٹیک، سرمایہ کاری کے رجحانات اور نئی ٹیکنالوجیز شامل تھیں۔
جاز ورلڈ کے سی ای او عامر ابراہیم نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے اور ڈیجیٹل صلاحیتوں میں دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ وقت ملک کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اس پر بننے والی سروسز میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب تک کنیکٹیویٹی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور 20 کروڑ سے زائد افراد ڈیجیٹل رسائی کے دائرے میں آ چکے ہیں لیکن اگلا مرحلہ صرف رسائی نہیں بلکہ اس کو حقیقی استعمال اور معاشی فائدے میں بدلنا ہے۔
کانفرنس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مختلف شعبے ٹیکنالوجی کے ذریعے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں جن میں فنانس سے فنٹیک، تعلیم سے ایڈٹیک اور زراعت سے ایگریک ٹیک کا سفر شامل ہے۔
دوسرے روز جاز ورلڈ کے صدر لائف اسٹائل وینچرز علی فہد نے ایک سیشن میں کمپنی کے ڈی او 1440 اسٹریٹجی کے تحت ڈیجیٹل ایکوسسٹم کی ترقی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی انٹرٹینمنٹ، ہیلتھ کیئر، انشورنس اور لائف اسٹائل جیسے شعبوں میں مربوط ڈیجیٹل سروسز پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے اپنہ کلینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم خاص طور پر ان خواتین کے لیے بنایا گیا ہے جنہیں صحت کی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، تاکہ انہیں سستی اور آسان آن لائن طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔
مجموعی طور پر کانفرنس میں یہ پیغام سامنے آیا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا انحصار صرف انفراسٹرکچر یا مواقع پر نہیں بلکہ مستقل عملدرآمد، جدت اور بڑے پیمانے پر نتائج دینے کی صلاحیت پر ہوگا