حج 2026 کے لیے نیا قانون نافذ، عمر کی حد پر نئی پابندی، ویزے بھی منسوخ

حج 2026 کے لیے نیا قانون نافذ، عمر کی حد پر نئی پابندی، ویزے بھی منسوخ

سعودی وزارت حج نے حج 2026 کے حوالے سے ایک بڑا اور اچانک فیصلہ سناتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے حج پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ہفتہ کے روز سامنے آنے والے اس نئے قانون کے تحت اب کوئی بھی بچہ جس کی عمر 15 سال سے کم ہے، رواں سال فریضہ حج ادا نہیں کر سکے گا۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی سعودی حکام نے ان تمام بچوں کے حج ویزے فوری طور پر منسوخ کر دیے ہیں جنہوں نے پہلے سے بکنگ کروا رکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:وزٹ ویزا پر حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہشمندوں کیلئے بڑی خبر

سعودی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جن کم عمر عازمین کے ویزے منسوخ ہوئے ہیں، انہیں حج کی مد میں جمع کرائی گئی تمام رقم مکمل طور پر ری فنڈ (واپس) کر دی جائے گی۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی ہدایات

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے سعودی احکامات کی روشنی میں ملک بھر کے ایئرپورٹس کے لیے ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پی اے اے کے مطابق یہ فیصلہ 3 مئی 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

تمام ملکی اور غیر ملکی ایئرلائنز کو سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ 15 سال سے کم عمر کسی بھی مسافر کی حج پرواز کے لیے بورڈنگ نہ کریں۔ 3 مئی سے ایسے تمام عازمین کو ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا جائے گا اور انہیں جہاز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں ملے گی۔

حج ضوابط میں تبدیلی کیوں؟

ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے حج کے دوران بچوں کی موجودگی پر کوئی سخت پابندی نہیں تھی، تاہم شدید گرمی، ازدحام اور عازمین کی حفاظت کے پیش نظر حالیہ برسوں میں قوانین میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔

حج 2026 کے لیے اس اچانک فیصلے کا مقصد ممکنہ طور پر حج کے دوران ہونے والے ہجوم کو کنٹرول کرنا اور کم عمر بچوں کو سخت موسمی حالات و صحت کے خطرات سے بچانا ہے۔

اس سے قبل بھی سعودی حکام نے غیر قانونی حج کے خلاف سخت مہم شروع کر رکھی ہے، اور اب عمر کی حد کا تعین اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔

انتظامی سہولت یا عازمین کے لیے مشکل؟

واضح رہے کہ اس فیصلے کے انتظامی فوائد تو بہت ہیں کیونکہ بچوں کی عدم موجودگی سے حج کے دوران بھگڈر یا گمشدگی جیسے واقعات میں کمی آ سکتی ہے، لیکن اس کے سماجی اثرات بھی کافی گہرے ہوں گے۔

Related Articles