رحمت کارڈ پروگرام، بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے پنجاب حکومت کا نیا فلاحی اقدام

رحمت کارڈ پروگرام، بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے پنجاب حکومت کا نیا فلاحی اقدام

پنجاب حکومت نے معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کی مدد کے لیے ایک اہم فلاحی منصوبہ رحمت کارڈ پروگرام کے نام سے شروع کر دیا ہے اس پروگرام کا مقصد بیواؤں اور یتیم بچوں کو مالی سہارا فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات آسانی سے پوری کر سکیں اور معاشی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا بنیادی ہدف مستحق افراد تک براہِ راست مدد پہنچانا ہے،ریاست اپنے کمزور شہریوں کی ذمہ داری سے ہرگز غافل نہیں رہے گی اور ایسے عملی اقدامات جاری رہیں گے جو حقیقی طور پر عوام کی زندگیوں میں بہتری لائیں۔

اس پروگرام کے لیے زکوٰۃ فنڈ سے 5 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جس کے ذریعے ہزاروں مستحق خاندانوں کو فائدہ پہنچایا جائے گا، حکومت کے مطابق اس اسکیم میں شفافیت کو اولین ترجیح دی گئی ہے تاکہ امداد صرف حقیقی ضرورت مند افراد تک ہی محدود رہے۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا بھر میں کرنسی نوٹوں کو عام طور پر کاغذ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے

اہلیت کے معیار کے مطابق صرف وہی بیوائیں اور یتیم بچے اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو شرعی طور پر زکوٰۃ کے مستحق ہوں، ایسے افراد جو سرکاری ملازمت میں ہیں، پنشن حاصل کر رہے ہیں یا مالی طور پر مستحکم ہیں، وہ اس اسکیم کے اہل نہیں ہوں گے۔

درخواست دینے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے حکومت نے جدید طریقہ کار متعارف کروایا ہے، شہری موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے بھی درخواست جمع کرا سکتے ہیں، جبکہ مزید رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن 1077 بھی فعال کی گئی ہے۔

مستحقین کے انتخاب کے لیے پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کے ڈیٹا کو بنیاد بنایا جائے گا تاکہ درست افراد تک امداد پہنچ سکے، اگر کسی درخواست گزار کا ریکارڈ اس ڈیٹا بیس میں موجود نہ ہو تو اس کی تصدیق قومی شناختی ادارے کے ذریعے کی جائے گی۔

منتخب افراد کو مالی امداد براہِ راست ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹ کے ذریعے فراہم کی جائے گی، تاکہ رقم بغیر کسی رکاوٹ کے مستحقین تک پہنچ سکے اور کسی قسم کی بدعنوانی کا امکان نہ رہے۔

editor

Related Articles