ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرام متعارف کروانے کا فیصلہ کرلیا ۔
اس فیصلے کے بعد طلبہ اب ایک ہی وقت میں یونیورسٹی کے دو مختلف پروگرامز میں داخلہ لے سکیں گے، جبکہ اس سے قبل صرف ایک ڈگری پروگرام میں داخلہ ممکن تھا ، اس اقدام کو طلبہ کیلئے ایک بڑی سہولت اور تعلیمی میدان میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے نظام کے تحت طلبہ کو یہ آزادی حاصل ہوگی کہ وہ مختلف شعبوں میں بیک وقت تعلیم حاصل کر سکیں ، اس کیلئے ضروری نہیں ہوگا کہ دونوں پروگرام ایک ہی ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے ہوں، بلکہ طلبہ اپنی دلچسپی اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق الگ الگ شعبہ جات کا انتخاب بھی کر سکیں گے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق اس فیصلے سے نوجوانوں کو زیادہ مہارتیں سیکھنے اور بہتر کیریئر مواقع حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
ایچ ای سی کی جانب سے جوائنٹ ڈگری پروگرام کیلئے بھی واضح پالیسی منظور کر لی گئی ہے، جس کے تحت طلبہ اپنی تعلیم کا نصف عرصہ ایک یونیورسٹی جبکہ باقی نصف دوسری یونیورسٹی میں مکمل کر سکیں گے۔
اس پروگرام کیلئے دونوں جامعات کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت یعنی ایم او یو اور ایچ ای سی کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جوائنٹ ڈگری پروگرام صرف پاکستان تک محدود نہیں ہوگا بلکہ غیر ملکی جامعات کے ساتھ بھی مشترکہ ڈگری پروگرام شروع کیے جا سکیں گے۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستانی طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی حاصل ہوگی اور بین الاقوامی تعلیمی روابط میں بھی اضافہ ہوگا، ایچ ای سی کمیشن نے ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز کے اجراء کی باضابطہ منظوری دے کر ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔